The great man-river builder.
الرسالہ، فروری ۱۹۹۰، صفحہ ۴۳
مقصد میں ناکام کیوں ہوگئیں۔ ایک صاحب ان رکاوٹوں کی فہرست بتانے لگے جنہوں نے ان اسلامی تحریکوں کو ناکام کر دیا۔ میں نے کہا کہ یہ سوچ صحیح نہیں۔ اس دنیا میں تو لازماً یہی ہونا ہے کہ یہاں رکاوٹیں پیش آئیں، ہمیں رکاوٹوں کے باوجود اپنے مقصد کو حاصل کرنا ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا۔ ایک مستشرق کے الفاظ میں، آپ نے رکاوٹوں کو اپنے لئے زینہ بنا لیا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ تمام تحریکیں صرف اس لئے ناکام ہو گئیں کہ وہ رکاوٹوں یاڈس ایڈوانٹیج کو اپنے لئے ایڈوانٹیج نہ بناسکیں ( هذه الحركات الاسلاميه كلها فشلت بسبب واحد، انهم لا تستطع ان تستغل الموانع لَهُم كفرص )
ایک عرب نوجوان مختا ر احمد (۲۶ سال) سے ملاقات ہوئی۔ وہ اس سے پہلے سیاسی اسلامی جماعتوں سے متاثر تھے۔ ان کے دماغ میں مار دھاڑ والا اسلام بسا ہوا تھا۔ انھوں نے کہا کہ اس کے بعد آپ کی عربی کتابیں پڑھنے کو ملیں ۔ ان کو پڑھنے کے بعد میرا ذہن بالکل بدل گیا۔ ان کو پڑھ کر میرے دماغ کا بوجھ اتر گیا۔ اب میں اپنے ماضی اور حال کو سوچتا ہوں تو ایسا محسوس ہوتا ہے گویا کہ میں قید خانے سے باہر آگیا ہوں (مانی خرجت من السجن)
عرب ممالک میں بہت بڑا دعوتی موقع پٹرول ڈالر کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ آجکل کثرت سے بیرونی ملکوں سے غیر مسلم ماہر ین اور کارکن عرب ملکوں میں کام کر رہے ہیں۔ ان کے درمیان آسانی کے ساتھ دعوتی کام کیا جا سکتا ہے۔
ایسے کئی عرب نوجوان ملے جو اس دعوتی امکان سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ محمد المجانی (۳۰سال نے بتایا کہ وہ جس کمپنی میں کام کرتے ہیں ، اس میں ایک برطانی ایکسپرٹ ہے جس کا نام برائن کو پنگ (Brain Copping) ہے۔ محمد المجانی نے اس برطانی کی کو گارڈ ارائز نز اور دوسری کتابیں پڑھنے کے لئے دیں۔ اس کے بعد اس کا تاثر پوچھا۔ سوال سن کر وہ کچھ دیر خاموش رہا۔ اس کے بعد بولا : جو کچھ اس میں لکھا ہے وہ بالکل حق ہے۔ اس نے مزید کہا کہ مجھے برطانیہ کا کوئی شخص نہیں معلوم جو اتنی طاقت کے ساتھ خدا اور مذہب کے اثبات پر کتاب لکھ سکے۔
طارق الکردی (۲۶ سال) ایک عرب نوجوان ہیں۔ وہ الجزائر میں تھے۔ وہاں انھوں نے آئرلینڈ کی ایک عیسائی لڑکی سے شادی کرلی۔ اس کا نام گر الڈین (Geraldine Sheehan) ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1990 All issues