The great man-river builder.
الرسالہ، فروری ۱۹۹۰، صفحہ ۴۴
شادی کے بعد وہ برابر اس کو ترغیب دیتے رہے کہ وہ اسلام قبول کرلے۔ مگر وہ راضی نہ ہوئی۔ حتی کہ اسلام سے نفرت کا اظہار کرتی رہی۔
۲۷ ستمبر کو ایک ملاقات میں طارق الکر دی نے بتایا کہ پہلے میں اسلام کو اس کے سامنے فقہی اور تقلیدی انداز میں پیش کرتا تھا۔ اس کے بعد مجھے انگریزی الرسالہ ملا۔ میں نے اس کو انگریزی الرسالہ کے کچھ شمارے پڑھائے۔ ان کا بیان ہے کہ جب میں نے اس کو انگریزی الرسالہ پڑھایا تو اس کو پڑھ کر وہ رو پڑی (فبکت) اب اسلام اس کو عین فطرت کا دین نظر آیا۔ اس نے پوری رضامندی کے ساتھ اسلام قبول کر لیا اور کہا:
I feel I knew this before. It's not a new thing for me. مذکورہ خاتون کو تعدد ازدواج کے مسئلہ پر سخت اعتراض تھا۔ طارق الکردی نے اس کو انگریزی الرسالہ (اگست ۱۹۸۹) پڑھنے کے لئے دیا۔ اس کو پڑھ کر خاتون نے کہا کہ اب میں نے اسلام کے اس مسئلہ کو مان لیا۔ اب مجھے اسلام کے بارہ میں کوئی شک نہیں۔
۲۸ ستمبر کو دوپہر کا کھانا "ذات العماد" میں تھا۔ کھانے کی میز پر میرے علاوہ تین عرب تھے۔ ایک عرب بزرگ نے اپنی گفتگو کا آغاز اس عربی مثل سے کیا: ان کان الکلام من الفضۃ فالسکوت من الذھب (بولنا اگر چاندی ہے تو چپ رہنا سونا ہے) اس کے بعد انھوں نے بولنا شروع کیا تو وہ مسلسل بولتے رہے۔
کافی دیر تک وہ ادھر ادھر کی باتیں کرتے رہے۔ آخر میں میں نے ان سے کہا : یا اخی ا تحبُّ الذھب ام الفضۃ (آپ سونا پسند کرتے ہیں یا چاندی) انھوں نے ایک لمحہ سوچا۔ اس کے بعد سنجیدگی کے ساتھ بولے: أفضل الذھب ولكن عندی الفضة (میں سونے کو اچھا سمجھتا ہوں، مگر میرے پاس چاندی ہے)
یہ عربوں کی ممتاز خصوصیت ہے کہ وہ فوراً اپنی غلطی کا اعتراف کرلیتے ہیں۔ مگر یہی بات ہندوستان اور پاکستان میں تقریباً معدوم کے درجہ میں ہے۔ یہاں ہر آدمی اسلام کے نام پر بے تکان بول رہا ہوگا۔ لیکن اس کی کسی کمزوری یا غلطی کی طرف توجہ دلائیے تو وہ کبھی اس کا اعتراف نہیں کرے گا، خواہ
‹ Previous page Next page › Contents of February 1990 All issues