The great man-river builder.
الرسالہ، فروری ۱۹۹۰، صفحہ ۴۵
احمد الصاوی ۲۰ نومبر ۱۹۸۹ کو مرکز میں آئے اور صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ انٹرویو کا موضوع یہ تھا : " قرآن کی صداقت پر جدید سائنسی دلائل "
۲۔ الرسالة کی دعوت اس حد تک پھیل چکی ہے کہ اب تمام لوگ اسی کی بولی بولتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ مثلاً تعمیر حیات ( ۲۵ نومبر ۱۹۸۹ ) میں مولانا سید ابوالحسن علی ندوی کا بیان چھپا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بابری مسجد کے قضیہ کو شرک پر لانا غلط تھا۔ موجودہ دھماکہ خیز صورت حال پر قابو پانے کا یہ نسخہ تجویز کیا ہے کہ " مسلمان اس موقع پر فریقِ ثانی کی تقریروں سے اشتعال میں نہ آئیں ۔ وہ پر امن رہیں ۔ مسلمانوں کے سیاسی قائدین سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ملکی فضا کو " اس قابل رہنے دیں کہ برادرانِ وطن اسلام کی تعلیمات کا ٹھنڈے دل و دماغ سے مطالعہ کر سکیں " یہ سب عین الرسالة کی باتیں ہیں ۔ اللہ کا فضل ہے کہ الرسالة کی ۱۳ سالہ جدوجہد اب کامیابی کے نئے مرحلہ میں داخل ہو گئی ۔
-۲ نئی دہلی کے علاقہ میں ایک عیسائی چرچ ہے جس کا نام (St. Michael's Church) ہے ۔ اس چرچ کے منتظمین کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے ۱۴ نومبر ۱۹۸۹ کو وہاں ایک تقریر کی ۔ یہ تقریر اسلام کے تعارف پر تھی۔ تقریر میں سادہ طور پر بتایا گیا کہ اسلام کیا ہے اور اس کی تعلیمات کیا ہیں ۔ تقریر آدھ گھنٹہ تک جاری رہی۔ اس کے بعد حاضرین کی طرف سے سوالات کیے گئے جن کا جواب صدر اسلامی مرکز نے دیا۔ حاضرین میں زیادہ تر عیسائی اور ہندو صاحبان تھے۔
-۴ مالدیپ کے ہفت روزہ اخبار ہویر (Haveer) کے نمائندہ مسٹر محمد وحید ۲۵ نومبر ۱۹۸۹ کو مرکز میں آئے اور صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو مذکورہ مالدیپ ہفت روزہ میں شائع ہوگا۔ انٹرویو کا موضوع زیادہ تر عصرِ حاضر میں اسلام اور مسلمانوں کے مسائل" تھا۔ وہ مرکز کی کچھ انگریزی مطبوعات اپنے ساتھ لے گئے۔
-۵ جناب بلال الدین صاحب بھوپالی نے بتایا کہ جناب قمر عالم صاحب جو سعودی عرب میں انجینیر ہیں، وہ الرسالہ انگریزی پابندی سے منگواتے ہیں اور ہر ماہ اس کی پچاس کاپی نکال کر تعلیم یافتہ
‹ Previous page Next page › Contents of February 1990 All issues