Al-Risala · March 1991 · page 38

سفر نامہ روس ــــــــ ۲

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۱، صفحہ ۳۸

اس سے اندازہ ہوا کہ دہلی اور ماسکو کے درمیان کافی مسافر ہوتے ہیں۔ تجارت اور تعلیم اور حکومتی ضروریات کے تحت لوگ سفر کرتے ہیں۔ حالاں کہ ہفتہ میں تین فلائٹ ایئر انڈیا کی اور تین فلائٹ ایر وفلاٹ کی۔

یہ غالباً جواہر لال نہرو کی پالیسی کا نتیجہ ہے۔ انھوں نے مخصوص مقاصد کے تحت امریکہ سے دوری اختیار کی اور روس سے اپنے تعلقات بڑھائے۔ مگر نئے حالات نے ثابت کیا ہے کہ خود سوویت یونین اپنی ترقی کے لئے امریکہ کا ضرورت مند ہے۔ چنانچہ وہ چاہتا ہے کہ امریکہ ۲۰ بلین ڈالر اسے اس کی مدد کرے۔ ۱۹۴۷ء میں ایک طرف جاپان نے اپنی نئی زندگی شروع کی اور دوسری طرف ہندوستان نے۔ جاپان امریکہ کا تعاون لے کر بڑھا۔ آج وہ تمام ملکوں سے آگے بڑھ چکا ہے۔ ہندوستان نے اشتراکی روس کے تعاون سے آگے بڑھنا چاہا مگر وہ کہیں نہیں پہنچا۔ آج دنیا بھر کے لوگ جاپان کی گھڑی پہننے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ مگر روسی صنعت کا حال عجیب ہے۔ دہلی کے ایک انگلش جرنلسٹ مسٹر ارن شرما نے مجھ سے فرمائش کی تھی کہ میں ان کے لئے روس کی بنی ہوئی پاکٹ واچ لے آؤں۔ کیوں کہ وہ ہاتھ کی گھڑی استعمال نہیں کرتے۔ وہ جیبی گھڑی کو پسند کرتے ہیں۔ ماسکو میں میں نے ایک واقف کار سے اس کا ذکر کیا۔ اس نے کہا کہ روسی گھڑی اطمینان بخش نہیں ہوتی۔ اس کی پائیداری کی کوئی ضمانت نہیں۔ آزادی (۱۹۴۷ء) کے بعد ہندوستان کے ترقی نہ کرنے کا کم از کم ایک بڑا سبب یہ ہے کہ آزادی کے بعد اس کی قیادت نہرو کے ہاتھ میں آئی۔ نہرو پہلے سے اشتراکی ذہن کے آدمی تھے۔ بعض سیاسی اسباب کے تحت وہ روس سے قریب ہونے پر مجبور ہوئے۔ انھوں نے ہندوستان کی ترقی کے لئے، اپنے الفاظ میں، "سوشلسٹ پیٹرن" کو اختیار کیا۔ (مثلاً پانچ سالہ منصوبے، پبلک سیکٹر نیشنلائزیشن، حکومتی کنٹرول، وغیرہ) اگر انھوں نے اس کے بجائے امریکی پیٹرن کو اختیار کیا ہوتا، نیز پڑوسی ملک سے ٹکراؤ کی حالت کو ختم کر دیتے تو مجھے یقین ہے کہ ہندوستان آج ایشیا کا سب سے زیادہ طاقت ور اور سب سے زیادہ ترقی یافتہ ملک ہوتا۔ سوشلزم اور جنگی بجٹ کے دو پاٹوں میں ہندوستان پس کر رہ گیا، اور دونوں کی ذمہ داری جواہر لال نہرو پر آتی ہے۔ خروشیچوف کے زمانہ میں ایک لطیفہ مشہور ہوا تھا۔ وہ ایک مرتبہ ایک روسی کارخانہ میں

‹ Previous page Next page › Contents of March 1991 All issues

Printed page