سفر نامہ روس ــــــــ ۲
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۱، صفحہ ۳۹
گئے۔ انھوں نے وہاں کے ایک کارکن سے کارخانہ کے حالات پوچھے ۔ اشتراکی کارکن نے کارخانہ کی کارکردگی اور اس کی پیداوار کی زبردست تعریف شروع کی۔ خروشیچوف کو اس کی تعریف مبالغہ آمیز معلوم ہوئی ۔ اس نے کہا: تم جانتے ہو، میں کون ہوں ۔ میں روس کا وزیر اعظم خروشیچوف ہوں۔ کارخانہ کا کارکن معذرت کرتے ہوئے بولا ۔ معاف کیجیے گا، میں سمجھا کہ آپ کوئی غیر ملکی مہمان ہیں۔ روسی صنعت کے بارے میں یہ لطیفہ چھپا تو دنیا بھر کے کمیونسٹوں نے کہا کہ یہ سرمایہ داروں کا پروپیگنڈہ ہے۔ مگر اب خود گورباچیف اور دوسرے روسی ذمہ دار کھلے لفظوں میں اس حقیقت کا اعتراف کر رہے ہیں ۔ اب سوویت روس میں ذاتی اخبار نکالنے کی اجازت ہو گئی ہے ۔ چنانچہ بہت سے لوگ ذاتی اخبارات نکال رہے ہیں ۔ ان اخباروں کی قیمت سرکاری اخباروں سے زیادہ ہوتی ہے ۔ اس کے باوجود یہ اخبارات سرکاری اخباروں سے زیادہ بکتے ہیں ۔ اور اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ ان اخباروں میں روسی حکومت اور روسی نظام پر تنقید ہوتی ہے ۔ ۳۱ جولائی کی شام کو یہاں کی میٹرو (زمین دوز ٹرین ) دیکھی۔ کہا جاتا ہے کہ ماسکو کی زمین دوز ٹرین دنیا کے چند بہترین نظاموں میں سے ایک ہے۔ اس کا ٹکٹ بہت سستا ہے۔ پانچ کیو پک میں کسی ایک لائن پر کہیں بھی جاسکتے ہیں۔ سارا سسٹم الیکٹرانک نظام پر قائم ہے۔ میرے ساتھی ڈاکٹر اودیف (Dr. Gennady P. Avdeyev) کے پاس رو بل تھا۔
انھوں نے ایک خاص مشین میں اس کو ڈالا اور فوراً پانچ پانچ کیو پک کے سکے نکل آئے۔ آگے بڑھے تو اندر داخل ہونے کے لئے ایک خاص دروازہ تھا۔ یہاں ایک شخص کو پانچ کیو پک برائے ٹکٹ ڈالنا تھا۔ ہم نے پانچ کیو پک ڈالے اور دروازہ سے گزر کر دوسری طرف پہنچ گئے ۔ اگر کوئی شخص کیو پک نہ ڈالے تو آٹو میٹک طور پر دروازہ کے اندر سے ایک لوہا نکل کر دروازہ کو بند کر دے گا۔ ٹرین آرام دہ اور تیز رفتار تھی۔ میں ایک اسٹیشن تک جاکر واپس چلا آیا۔ ایک روبل میں ایک سو کیو پک ہوتے ہیں ۔ اس لحاظ سے یہ عام لوگوں کے لئے بے حد سستی سواری ہے۔ اسی کے ساتھ اس کا نظام تعجب خیز حد تک سادہ ہے۔ اندر کی تعمیر نہایت مضبوط اور نہایت شاندار نظر آئی۔ اگر دہلی میں اس قسم کا نظام قائم ہو جائے تو دہلی والوں کے لئے بہت بڑی نعمت ثابت ہوگا۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1991 All issues