سفر نامہ روس ــــــــ ۲
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۱، صفحہ ۴۰
ہوٹل کے رپشن پر ایک خاتون تھیں ۔ وہ صرف روسی زبان جانتی تھیں۔ میرے گائیڈ کی مدد سے انھوں نے پوچھا کہ کیا یہ مسلمان ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ہاں ۔ اس پر وہ بہت خوش ہوئیں۔ انھوں نے کہا کہ میں تاتاری نسل کی مسلمان ہوں ۔ انھوں نے اپنا نام جولو د نیو احسانہ ( جمال الدین حسنہ) بتایا۔ ان کی عمر ۵۱ سال تھی۔ وہ خود سے ایک روز میرے لئے چائے اور ناشتہ لے آئیں۔ میرا اندازہ ہے کہ روسی لوگ مزا جاً بہت اچھے ہیں۔ مگر یہاں قاعدے اور ضابطے اتنے زیادہ ہیں کہ چاہنے کے باوجود کوئی شخص کچھ کر نہیں سکتا۔ مثلاً ۳۱ جولائی کی شام کو دہلی کے لئے ایر و فلاٹ کی پرواز تھی اور اسی دن ایر انڈیا کی پرواز بھی۔ میرے روسی میزبان نے دریافت کر کے بتایا کہ دونوں جہاز کی تمام سیٹیں بک ہو چکی ہیں۔ وہ دن بھر دوڑ دھوپ کرتے رہے، مگر وہ ایر و فلاٹ میں میرے لئے ایک سیٹ حاصل نہ کر سکے۔
اس کے بعد میں نے انڈین ایمبیسی کو ٹیلیفون کیا۔ سفیر صاحب موجود نہیں تھے۔ ان کے سیکرٹری مسٹر گووند ر سے بات ہوئی ۔ انھوں نے کہا کہ میں ابھی ایر انڈیا سے معلوم کر کے بتاتا ہوں۔ صرف پانچ منٹ کے بعد دوبارہ ٹیلیفون کی گھنٹی بجی ۔ انھوں نے کہا کہ آپ ایر انڈیا کے دفتر میں جا کر مسر سونیا سنگھ سے مل لیں۔ وہ آپ کو سیٹ دے دیں گی۔ مسٹر گو وندر نے یہ سیٹ رزرو کو ٹا سے دلوائی ۔ اسی طرح ایرو فلائٹ میں بھی رزرو کوٹاہوتا ہے۔ مگر اس کو ٹہ سے کسی غیر شخص کے لئے سیٹ حاصل کرنے کا طریقہ اتنا پیچیدہ ہے کہ وہ عملاً ناممکن ہے۔ بعض وجوہ سے میں اس فلائٹ سے سفر نہ کر سکا ۔ مگر مذکورہ تقابل سے دونوں ملکوں کے فرق کا اندازہ ہوتا ہے۔
مسٹر گولب ییف (Isaac Golubyev) کے والدین یہودی تھے۔ مگر وہ اپنے کو لا مذہب بتاتے ہیں۔ وہ اپنے کو کمیونسٹ نہیں کہتے مگر خوب صورت انداز میں سوشلسٹ سماج کی تعریف کرتے ہیں۔ انھوں نے مجھ کو ماسکو کے کئی علاقے دکھائے۔ دریائے ماسکو کے کنارے مردوں اور عورتوں کی ایک جماعت خوش و خرم کھڑی ہوئی تھی۔ درمیان میں ایک عورت خاص انداز کا سفید کپڑا پہنے ہوئے تھی۔ انھوں نے بتایا کہ یہ دلہن ہے۔ آج ہی ان لوگوں کی شادی ہوئی ہے۔ وہ یہاں خوشی منانے آئے ہیں۔ ان لوگوں کے پاس شیمپین کی بوتلیں تھیں۔ ان کو کھول کر مرد و عورت سب کھڑے ہوئے پی رہے تھے۔ (باقی)
‹ Previous page Next page › Contents of March 1991 All issues