Al-Risala · March 1991 · page 41

ایک اقتباس

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۱، صفحہ ۴۱

ایک اقتباس

مختلف بابری مسجد کمیٹیوں کے لیڈر پچھلے تین برس سے مسلسل بابری مسجد کے سلسلہ میں بڑے بڑے بیان دیتے آئے ہیں۔ بلند بانگ دعوے کرتے آئے ہیں۔ اپنے جذ باتی بیانات اور زور دار تقریروں سے خوب مسلمانوں کی واہ واہ لوٹ کر قوم کے لیڈر بنتے رہے ہیں۔ ملک کی مختلف سیاسی جماعتوں پر یہ تاثر قائم کرتے رہے ہیں کہ مسلم ووٹ ان کی مٹھی میں ہے۔ وہ جہاں کہیں گے مسلمان ووٹ ڈالے گا۔ وہ مسلم ووٹ کے نام پر اپنا مفاد پورا کرتے ہیں۔ جنہیں ان کے محلے میں بھی کوئی نہیں جانتا تھا راتوں رات مسلمانوں کے لیڈر بن گئے۔ انھوں نے مسلم فوج بنانے کا دعویٰ کیا۔ انھوں نے اجودھیا مارچ کا نعرہ لگایا۔ ان قائدین ملت نے شہیدی دستے بنائے۔ انھوں نے لاکھوں کی تعداد میں حفاظتی دستے اجودھیا بھیجنے کا اعلان کیا۔ آج ہندوستان کے مسلمان اگر یہ سوال کر رہے ہیں کہ یہ مسلم فوج، یہ شہیدی دستے اور یہ حفاظتی دستے کہاں ہیں تو کون سا غلط کر رہے ہیں۔ مگر جب پچھلے برس رام مندر کا شلانیاس ہوا تو ان شہیدی دستوں کا دور دور تک پتہ نہیں تھا۔ فیض آباد کی ٹاٹ والی مسجد میں صرف سوا سو ڈیڑھ سو مسلمان جمع تھے۔ اور جب اڈوانی کی رتھ یا ترا نکلی تو انھوں نے مسلمانوں پر اپنی بہادری کا سکہ جمانے کے لئے رتھ یا ترا رو کنے کا اعلان کیا۔ ان کے اس اعلان سے فتح پوری مسجد کے نائب امام کو ترشول تو لگ گیا مگر اس رتھ یا ترا کو روکنے کے لئے چڑیا کا بچہ بھی سامنے نہیں آیا۔ انھوں نے حفاظتی دستے کے تحت بابری مسجد کی حفاظت کے لئے پانچ لاکھ مسلمانوں کو اجودھیا بھیجنے کا اعلان کیا مگر پانچ مسلمان لیڈر اجودھیا تو دور کی بات ہے فیض آباد بھی نہیں پہنچے۔

پچھلے گیارہ ماہ میں بی جے پی والے حکومت کے حمایتی ہونے کے باوجود مسلسل منظم طور پر اجودھیا پر دھاوا بولنے اور بابری مسجد میں گھسنے کی تیاری کرتے رہے۔ مگر یہ بابری مسجد کے لیڈر صرف وزیر اعظم وی پی سنگھ سے ملاقاتیں کر کے اور ٹیلیویژن وریڈیو پر اپنے بیانات جاری کراکر خوش ہوتے رہے، دوسری طرف مسلمانوں میں اپنی پوزیشن بنانے کے لئے یہ حفاظتی دستے اور شہید ی دستے بنانے کے لمبے چوڑے بیانات دیتے رہے۔ اس نے ان خالی خولی بیانات سے انھوں نے صرف اور صرف فرقہ

‹ Previous page Next page › Contents of March 1991 All issues

Printed page