Al-Risala · March 1991 · page 42

ایک اقتباس

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۱، صفحہ ۴۲

دل ، شیو سینا ، وشو ہندو پریشد کے وجود کا جواز فراہم کاا مگر میرٹھ ، بھاگپور ، گونڈا ، جے پور ، دہلی اور دوسرے درجنوں فسادات میں ایک مسلمان کی جان و مال کی حفاظت نہیں کر سکے ۔ ان کا کھیل صرف اتنا ہے کہ وہ ملک کی اہم سیاسی جماعتوں سے یہ تسلیم کرا لیں کہ یہ مسلم ووٹوں کے واحد ٹھیکیدار ہیں ۔ ان کی مرضی کے بغیر کوئی سیاسی جماعت کامیاب نہیں ہوگی ۔ انھوں نے نہ تو حکومت سے مسلمانوں کے اقتصادی سماجی و دینی مسائل حل کرنے میں کوئی دل چسپی دکھائی ۔ نہ مسلمانوں کو منظم کیا ۔ نہ انھیں اعتماد اور حوصلہ دیا ۔ نہ ہند و فرقہ پرستوں کا مقابلہ کرنے کے لیے کوئی ٹھوس حکمت عملی بنائی ۔ نہ ان کے مفاد میں کوئی دور رس پالیسی مرتب کی ۔

جب تک یہ عناصر اقتدار سے دور ے ، جذباتی تقریریں کر کے مسلمانوں کو ٹکراؤ کے راستے پر چلاتے رہے ۔ ان کی اسی ٹکراؤ کی پالیسی کا خمیازہ کروڑوں مسلمانوں کو میرٹھ ، ملیانہ ، بھاگلپور ، بدایوں ، مکرانہ ، دہلی ، بارہ بنکی ، الہ آباد ، حیدر آباد ، اندور ، جے پور ، گونڈا ، متھرا ، کانپور اور درجنوں فسادات کی شکل میں بھگتنا پڑا ۔ آج بھی ملک کے درجنوں شہر میں بھگتنا پڑ رہا ہے ۔ اور آئندہ بھی بھگتنا پڑے گا۔ پرانی کہاوت ہے کہ چھیڑ و مت اور چھیڑ و تو چھوڑ و مت ۔ لیکن بغیر نتائج کی پروا کئے یہ قائدین و قتی تالیاں بجوانے اور لیڈری چمکانے کے لئے ہند و فرقہ پرستوں سے چھیڑ چھاڑ کرتے رہے ۔ انھیں اپنی مسلم دشمنی کا جواز فراہم کرتے رہے ۔ لیکن ٹکراؤ کا اعلان کرنے کے بعد ، حالات کو بگاڑنے کے بعد خود ہمیشہ پیچھے ہٹ گئے ۔ ان کی اس عاقبت نا اندیشانہ پالیسی کا خمیازہ عام مسلمانوں کو بھگتنا پڑا ۔ آج بھی بھگتنا پڑ رہا ہے اور ابھی برسوں بھگتنا پڑے گا ۔

۴۷ کے بعد ہندوستان میں مسلمان کبھی اتنا غیر محفوظ نہیں رہ رہا جتنا کہ آج ہے ۔ آج مسلمانوں کی جان و مال ہی نہیں ان کی مسجدیں ، درگاہیں ، قبرستان ان کا دین ایمان سب خطرے میں ہے ۔ آج مسلمان بسوں اور ٹرینوں میں سفر کرتے ہوئے ڈر رہے ہیں ۔ آج مسلمان زبر دست خوف و ہراس کا شکار ہیں ۔ اس کے لئے جہاں ملک کی سیاسی جماعتیں اور ہند و فرقہ پرست تنظیمیں ذمہ دار ہیں وہاں بابری مسجد کے نام پرلیڈری چمکانے والے یہ قائدین ملت بھی برابر کے ذمہ دار ہیں ۔ آج اگر عام مسلمانوں کا اعتماد ان نام نہاد مسلم لیڈروں پر سے اٹھ گیا ہے تو کیا غلط ہے ۔ آج مسلمان مایوسی کے ایسے اندھیرے میں گھر گیا ہے جہاں اسے امید کی کوئی کرن نظر نہیں آرہی ہے ۔ مگر مسلمان کے لئے مایوسی حرام ہے مسلمان

‹ Previous page Next page › Contents of March 1991 All issues

Printed page