Al-Risala · March 1991 · page 43

ایک اقتباس

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۱، صفحہ ۴۳

کو آج اپنی غلطیوں سے سبق سیکھنا ہوگا۔ اپنے نادان دوستوں اور مفاد پرست ہی خواہ ہوں کو پہچاننا ہوگا۔ اور منظم طور پر اپنی حفاظت، اپنی ٹھوس تعمیر، اپنی تعمیر و ترقی کا راستہ متعین کرنا ہوگا۔ اور یہ اس وقت ہی ممکن ہے کہ جب تعلیم یافتہ، بے لوث اور سمجھدار مسلمان آگے آئیں ۔ عام مسلمان لمبے لمبے دعوے کرنے والے لیڈروں کی اصلیت کو پہچانیں اور اپنے درمیان موجود مخلص مگر خاموشی سے کام کرنے والے عناصر کو پہچانیں۔ مسلمانوں کا مستقبل ان شاء اللہ آج بھی روشن ہے۔ ہندوستان کے کروڑوں مسلمانوں کو دنیا کی کوئی طاقت اپنے جائز حقوق حاصل کرنے اور آگے آنے سے نہیں روک سکتی۔ جس دن مسلمان خوف و دہشت کو تیاگ کر صرف اور صرف اپنے ایمان پر اعتقاد کرتے ہوئے سامنے آئیں گے انھیں زندگی کے کسی بھی میدان میں آگے بڑھنے سے نہیں روکا جاسکے گا (ہفت روزہ نئی دنیا ۹- ۱۵ نومبر (۱۹۹۰)

اوپر جو "اقتباس نقل کیا گیا، وہ کوئی منفرد تحریر نہیں۔ آجکل اس قسم کے مضامین کثرت سے اخبارات ورسائل میں شائع ہورہے ہیں (مثال کے طور پر ملاحظہ ہو، مفصل خط مطبوعہ قومی آواز، ۷ نومبر ۱۹۹۰ )

مسلمان جو پچھلے برسوں میں نام نہاد لیڈروں کے لفظی بیانات اور جوشیلی تقریروں سے وقتی طور پر انہیں اپنا رہ نما سمجھ بیٹھے تھے، وہ اب ان کی نااہلیت کو بخوبی طور پر جان چکے ہیں۔ اکتوبر ۱۹۹۰ کے واقعات نے آخری طور پر ان کی حقیقت کھول دی ہے۔ اب یہ ثابت ہوگیا ہے کہ یہ لوگ مسائل کی نوعیت کو جانتے بھی نہیں، کجا کہ ان سے یہ امید کی جائے کہ وہ ان میں رہنمائی دیں گے۔ ان نام نہاد لیڈروں نے قرآن کے مطابق ، اس کام کا کریڈٹ لینا چاہا تھا جس کو انھوں نے کیا نہیں (آل عمران (۱۸۸) اللہ نے دکھادیا کہ ایک کریڈٹ کسی کو اس دنیا میں نہیں ملتا۔

مسلمان اب ان نااہل رہنماؤں کے فریب سے باہر آچکے ہیں ، اور خود یہ واقعہ مسلمانوں کے لئے روشن مستقبل کی یقینی ضمانت ہے۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی تمام مصیبتوں کے اصل ذمہ دار خود ان کے نام نہاد رہنما ہیں۔ مسلمانوں کا ان رہنماؤں کی حقیقت کو جان لینا ان کے لئے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ مسلمانوں کی اس دریافت کے بعد اب کی تعمیر نو کا، سفرشروع ہو چکا ہے ، اور جو سفر صحیح سمت میں شروع ہو، وہ آخر کار اپنی منزل پر پہنچ کر رہتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1991 All issues

Printed page