ایک اقتباس
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۱، صفحہ ۴۴
ایک مثال
ایک خبر پڑھئے : برطانیہ کے شہرلیسٹر میں پچھلے کچھ عرصہ سے مسلمانوں اور مقامی آبادی کے درمیان مساجد میں لاؤڈ اسپیکر پر اذان کے سوال پر کچھ نا خوش گواری چلی آرہی تھی۔ مقامی عیسائی آبادی اور محکمہ حفظان صحت کا کہنا ہے کہ لاؤڈ اسپیکروں اور ایمپلی فائروں کی آواز ایک خاص حد میں رہنی چاہیے ۔ جیسا کہ چرچوں کی گھنٹیوں کی آواز رہتی ہے ۔ اور یہ کہ کم سے کم فجر کی اذان کے لیے لاؤڈ اسپیکر کے استعمال سے احتراز کیا جائے ۔ اب لندن کے اخبار ٹائمز کی اطلاع سے معلوم ہوا کہ یہ معاملہ خوش اسلوبی سے سلجھ گیا ہے۔ مسلم رہنماؤں اور مقامی حکام نے مل بیٹھ کر طے کر لیا کہ اذان لاؤڈ اسپیکر پر بدستور ہوتی رہے گی۔ لیکن محدود آواز میں۔ مسلمان فجر کی اذان میں یہ آلہ استعمال نہیں کریں گے۔ اب صرف عشاء کی اذان کے وقت کا معاملہ ہے۔ حکام کہتے ہیں کہ یہ اذان زیادہ سے زیادہ آٹھ بجے دے دی جائے ۔ جبکہ ائمہ کا اصرار ہے کہ اس کا وقت نو سے ساڑھے نو بجے تک ہونا چاہیے ۔ اخبار کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ بھی سلجھ جائے گا ( سہ روزہ دعوت ۲۵ جولائی ۱۹۹۰) مذکورہ واقعہ میں برطانیہ کے مسلمانوں نے جو طریقہ اختیار کیا اس کا نام ایڈ جسٹمنٹ ہے۔ الـرسـالـی ایڈجسٹمنٹ کی دعوت دیتا ہے، مگر وہی مسلمان جو برطانیہ میں ایڈ جسٹمنٹ پر راضی ہوجاتے ہیں، انھیں سے جب ہندوستان میں ایڈ جسٹمنٹ کی بات کہی جائے تو وہ اس کو " بزدلی " کہہ کر نظر انداز کر دیتے ہیں ۔ یہی ہندوستان کے مسلمانوں کا اصل مسئلہ ہے ۔ یہ مسلمان باہر کے ملکوں میں جاکر جس طرح رہتے ہیں، اگر اسی طرح وہ ہندوستان میں بھی رہنے لگیں تو یہاں کے فرقہ وارانہ مسائل اس طرح ختم ہو جائیں گے جیسے کہ وہ تھے ہی نہیں ۔
ایڈجسٹمنٹ بزدلی نہیں ، ایڈ جسٹمنٹ زندگی کا اصول ہے ۔ اس کی ضرورت ہر جگہ اور ہر ملک کے لیے ہے ، خواہ وہ مسلم ملک ہو یا غیر مسلم ملک ۔ اس کی صورتیں مختلف ہو سکتی ہیں مگر اس کی ضرورت اور اہمیت ہر جگہ یکساں طور پر باقی رہتی ہے ۔ ایڈیجسٹمنٹ کے بغیر اس دنیا میں زندگی کی تعمیر ممکن نہیں ۔
مزید یہ کہ یہ انداز مدعو کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ دعوت کے بارہ میں ہمدردانہ غور کر سکے۔ اس اعتبار سے یہ طریقہ سراسر حکمت ہے نہ کہ عام معنوں میں صرف ایک مصلحت ۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1991 All issues