Al-Risala · March 1991 · page 46

ایک اقتباس

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۱، صفحہ ۴۶

خط کا مضمون یہ ہے: مولانا ابواللیث صاحب، سابق امیر جماعت اسلامی، جولائی ۱۹۹۰ء میں اپنے وطن اعظم گڑھ تشریف لے جا چ ہیں۔ موصوف کی خواہش ہے کہ الرسالہ ان کے گھر کے پتہ پر بھیجا جایا کرے۔ براہ کرم ان کا پتہ نوٹ فرما لیں اور آئندہ ان کے گھر کے پتہ پر الرسالہ بھیجیں۔ تعاون کے لیے شکریہ۔ (افسوس کہ دسمبر ۱۹۹۰ء میں مولانا کا انتقال ہو گیا، اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے۔ آمین)۔ وقار عالم صاحب دہلی کی ایک مسجد (پھاٹک حبش خاں) میں امام ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ہر جمعہ کو خطبے سے پہلے انھیں ۲۰ منٹ تک تقریر کرنا ہوتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ ہمیشہ الرسالہ کی باتوں کو لے کر تقریر کرتے ہیں۔ اس طرح کے اور بہت سے امام ہیں جو اسی طرح مسجد کی تقریروں میں الرسالہ کی باتیں بیان کرتے ہیں۔

وجیہہ الدین صاحب انجینئر حیدر آباد سے پرانڈا (ضلع عثمان آباد) گئے ۔ وہاں اصغر حسینی صاحب (ریٹائرڈ سب رجسٹرار) کے گھر پر۔ انھوں نے الرسالہ دیکھا، انھوں نے اصغر حسینی صاحب سے پوچھا کہ آپ الرسالہ پڑھتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ میں تو برسوں سے اس کو پڑھ رہا ہوں اور اس کی ۲۰ کاپی منگا کر اپنے حلقہ میں لوگوں کو دیتا ہوں۔ میرا کہنا ہے کہ ”اگر کسی شخص کے مطالعہ میں الرسالہ نہیں ہے تو اس کا مطالعہ ناقص ہے“۔

میں تقریبا ساڑھے تین سال سے الرسالہ کا مطالعہ کرتا ہوں، دیگر پرچوں کو پڑھتا ہوں، اور اس پرچے کا مطالعہ کرتا ہوں، پھر دونوں کے مضامین سے نتیجہ اخذ کرتا ہوں تو معلوم ہوتا ہے کہ دیگر پرچے کے مضامین انسانیت سازی کی جگہ انسانیت سوزی کرتے ہیں، اور اس جریدہ کے مضامین انسانیت سازی کرتے ہیں (عزیز الحق، مدھوبنی)

مالیگاؤں کے ایک صاحب برٹرینڈرسل کے اسلوب تحریر سے حد درجہ متاثر تھے۔ ان کے بقول کسی مصنف کی تحریر میں ان کے لئے کوئی کشش اور دلچسپی کا سامان باقی نہیں رہا تھا۔ اس کے بعد ان کو مرکز کی مطبوعات برائے مطالعہ دی گئیں۔ ان کو پڑھ کر کے انھوں نے برجستہ طور پر اپنا تاثر بیان کرتے ہوئے کہا کہ برٹرینڈ رسل کی تحریروں میں مجھے جو ادبی ٹیسٹ ملتا تھا مجھے اندازہ نہیں تھا کہ اردو میں بھی وہ ادبی ٹیسٹ موجود ہو گا۔ ۱۱۔

سہارن پور سے ایک ہندی ہفت روزہ جاری ہوا ہے۔ اس کا نام " سماج گرو و ٹائٹس" ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1991 All issues

Printed page