سفر نامہ روس - ۳
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۱، صفحہ ۴۲
لئے روانگی ہوئی۔
راستہ میں جہاز ایک گھنٹہ کے لئے تاشقند میں رکا۔ دوسرے مسافروں کے ساتھ میں بھی جہاز سے باہر آگیا اور یہ وقت تاشقند ائیر پورٹ پر گزارا۔ ائیر پورٹ پر تاشقند کے قدیم آثار کی بہت سی بڑی بڑی تصویریں لگی ہوئی تھیں۔ یہ اپنے طرزِ تعمیر کے اعتبار سے اسلامی عہد کی معلوم ہوئیں ۔ ایک گنبد کی تصویر تھی۔ اس پر نقش و نگار کے انداز میں کچھ عربی کلمات لکھے ہوئے تھے۔ مگر آرٹسٹک خط کو پڑھنے کے معاملہ میں میں بہت کمزور ہوں۔ چنانچہ میں ان کلمات کو پڑھ نہ سکا۔
تاشقند کی زمین ماضی کے ان ایام کو یاد دلاتی ہے جب یہاں مسلمانوں کا دور دورہ تھا۔ تاشقند سوویت یونین کے اُس علاقہ میں واقع ہے جس کو سنٹرل ایشیا (وسط ایشیا) کہا جاتا ہے۔ سنڈے ٹائمز (لندن ) نے اپنے شمارہ ۱۰ جون ۱۹۹۰ میں لکھا تھا کہ سوویت سنٹرل ایشیا کے جنوبی کنارہ پر واقع تمام مسلم علاقے آزادی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یہ لوگ سوویت یونین کی کل آبادی کا ۲۰ فی صد حصہ ہیں خود اس علاقے میں مسلمانوں کی تعداد ۴۰ فی صد ہے) سوویت فوج میں ان کی تعداد ۳۳ فی صد ہے۔ نیشنلزم اور مذہبی بنیاد پرستی کی ایک لہر مسلمانوں کو آزادی کی طرف لے جا رہی ہے۔ وہ کسی نہ کسی دن سوویت اقتدار سے آزادی حاصل کر لیں گے اور بقیہ مسلم دنیا کے ساتھ مل جائیں گے۔
سوویت یونین میں مسلمان زیادہ تر سنٹرل ایشیا کے علاقہ میں رہتے ہیں ازبکستان، تاجکستان، ترکمانستان، کرغیز یہ، قزاقستان۔ سوویت یونین کے مسلمان زیادہ تر سنی ہیں۔ البتہ آذر بائیجان میں شیعہ کی اکثریت ہے جو کہ ایران سے ملا ہوا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پورے ملک میں ۱۲۰۰ مسجدیں ہیں۔ تاہم یہ اعداد صحیح معلوم نہیں ہوتے ۔ بخارا میں الغ بیگ کا مدرسہ ہے۔ یہ مدرسہ ۱۸۱۷ء میں بنایا گیا تھا۔ وہ وسط ایشیا کا قدیم ترین مدرسہ سمجھا جاتا ہے۔
حکومت سے منظور شدہ بہت سے مسلمانوں کے بورڈ ہیں جو مسلم معاملات کی تنظیم کرتے ہیں۔ مثلاً ایک مسلم بورڈ نے ۱۹۸۹ میں قرآن کے ۵۰ ہزار نسخے چھپوائے۔ اسی طرح ایک بورڈ ایک ماہانہ میگزین مسلمز آف دی سوویت ایسٹ) شائع کرتا ہے یہ انگلش، فرنچ ، عربی، دری، فارسی
‹ Previous page Next page › Contents of April 1991 All issues