سفر نامہ روس - ۳
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۱، صفحہ ۴۴
کی ہے۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دوشنبے میں کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے دفتر کے سامنے دس ہزار ممسلمانوں نے جمع ہو کر احتجاج کیا۔ مظاہرہ کے دوران اچانک ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔ مظاہرین میں سے کچھ مسلم نوجوانوں نے ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں کے پاس کھڑے ہوئے روسی فوجیوں سے کہا کہ آپ لوگ اپنی اپنی جگہ پر بیٹھ جائیں۔
روسی فوجی اس "حکم" پر حیران ہوئے۔ تاہم کچھ دیر کے بعد وہ سڑک پر بیٹھ گئے۔ اس کے بعد داڑھی رکھے ہوئے ایک بزرگ سلمان نکلے۔ انھوں نے ایک فوجی گاڑی کے اوپر کھڑے ہو کر اذان دی ۔ اس کے بعد تمام مظاہرین صف باندھ کر کھڑے ہو گئے اور باجماعت نماز ادا کی۔ روسی فوج کے لوگ انھیں اچنبھے کے ساتھ دیکھتے رہے۔
نیوز ویک کے رپورٹر کے مطابق، تاجکستان میں مسلمانوں کی تعداد روس کی دوسری ریاستوں میں بسنے والے مسلمانوں سے زیادہ ہے۔ وہ سب سے زیادہ مذہبی بھی ہیں۔ پچھلے کمیونسٹ دور میں ان کے مذہبی جذبہ کو دبانے کی کوشش کی گئی۔ حتیٰ کہ ظاہری طور پر دیکھنے والوں کے لئے وہ ختم بھی ہو گیا۔ لیکن موجودہ روسی حکمران مسٹر گورباچوف کی اصلاحات کے بعد اچانک یہاں اسلام دوبارہ ظاہر ہو گیا ہے۔ روس میں پانچ کروڑ مسلمان ہیں۔ چوں کہ سرکاری طور پر اس قسم کی معلومات چھپائی نہیں جاتی تھیں، اس لئے خود روسیوں کو اس واقعہ کا علم پہلی بار ہوا ہے۔
تاجکستان میں تقریباً ۳۰۰ نئی مسجدیں بن گئی ہیں۔ فیکٹریوں، سڑکوں اور جیل وغیرہ میں نماز پڑھنے کی اجازت مل گئی ہے۔ اسلام قبول کرنے والوں کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے۔ جو اسلام پسند مسلم ملکوں میں حکمرانوں کے خلاف مہم چلا رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان "سیکولر" حکمرانوں کو مٹانا ضروری ہے۔ ورنہ یہاں سے اسلام کا خاتمہ ہو جائے گا۔ ایسے لوگوں کو روس کے واقعہ سے سبق لینا چاہئے ۔ جب کمیونسٹ حکومت کے شدید ترین سلوک کے باوجود اسلام روس میں ختم نہ ہو سکا تو وہ مصر، پاکستان شام ، اردن جیسے ملکوں سے کیوں کر ختم ہو جائے گا۔
حال ہی میں میں افریقہ (سینیگال ) گیا تھا ، اس کے بعد روس کا سفر ہوا۔ دونوں کے درمیان ایک عجیب فرق تھا۔ افریقہ میں سب کے سب لوگ سیاہ فام دکھائی دیتے تھے، یہاں سب کے سب لوگ سفید فام نظر آتے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1991 All issues