A new USSR is emerging
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۱، صفحہ ۴۵
یہ فرق اللہ تعالیٰ نے "تعارف" کے لئے رکھا ہے نہ کہ "امتیاز" کے لئے۔ یہ صورتِ حال در اصل انسان کے حالتِ امتحان میں ہونے کا ایک جزء ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ بیشتر انسان اس امتحان میں ناکام ہو گئے۔ سفید فام لوگوں نے رنگ کی بنا پر اپنے کو مخصوص نسل سمجھ لیا۔ اس کے جواب میں سیاہ فام نسل میں رد عمل پیدا ہوا ۔ انھوں نے کہا کہ سیاہ بہتر ہے (Black is good)۔ حتی کہ انھوں نے کہا کہ خدا بھی سیاہ ہے۔ نعوذ باللہ من ذالک۔
ماسکو میں بہت بڑے بڑے پارک ہیں۔ مثلاً فرینڈ شپ پارک اتنا بڑا ہے کہ ایک منظم جنگل معلوم ہوتا ہے۔ اس کے اندر رابندر ناتھ ٹیگور کا اسٹیچو ہے۔ اس کے علاوہ ماسکو میں گاندھی ، نہرو، اور اندر اکے اسٹیچو بھی ہیں۔ یہ ایک علامت ہے جس سے ہند اور روس کے درمیان گہرے تعلقات کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔
۲ اگست ۱۹۹۰ کی صبح کو دوبارہ میں دہلی کے اسی ایئر پورٹ پر اتر گیا جہاں سے میں اس سفر پر روانہ ہوا تھا۔ انسان جہاں سے آیا ہے ، وہیں اس کو دوبارہ لوٹ کر جانا ہے۔ دنیا کے سفر میں ہر روز انسان کو اس حقیقت کا تجربہ کرایا جا رہا ہے۔ مگر مسافروں کی بھیڑ میں شاید کوئی بھی مسافر ایسا نہیں جو اس ابتدائی تجربہ میں اس کے انتہائی سبق کو پارہا ہو۔ ہر آدمی واقعہ کے "نصف اول" کا ماہر بنا ہوا ہے ، واقعہ کے "نصف ثانی" کی خبر کسی کو نہیں۔
واپس آتے ہوئے اخبار میں ایک رپورٹ پڑھی۔ اس کا عنوان تھا ــــــــ ایک نیا سوویت روس ابھر رہا ہے :
A new USSR is emerging
اس رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ خمسینات میں سوویت یونین نے ساری دنیا کو حیرانی میں ڈال دیا جب کہ اس نے اپنا اسپٹنک زمین کے مدار میں داخل کر دیا۔ اس طرح اس نے فوجی طاقت میں امریکہ کی برابری (strategic parity) حاصل کر لی۔ روایتی ہتھیاروں کے اوپر اس کو واضح برتری حاصل ہوگئی۔ مگر یہ حیثیت اس کو ایک بے حد مہنگی قیمت پر ملی۔ فوجی برتری حاصل کرنے کی کوشش میں اس نے اپنی اقتصادیات کو برباد کر لیا۔ چنانچہ سوویت یونین اب ۷۰ سالہ اشتراکی بادہ کو اتار رہا ہے اور عام جمہوری انداز پر اپنی اقتصادیات کی نئی تنظیم کرنا چاہتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1991 All issues