Al-Risala · April 1991 · page 48

خبر نامه اسلامی مرکز ۷۱

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۱، صفحہ ۴۸

۲۔ ڈاکٹر تھیوڈور رائٹ (Prof. Theodore P. Wright) نیو یارک اسٹیٹ یونیورسٹی میں پولیٹیکل سائنس کے پروفیسر ہیں۔ وہ ۲۴ جنوری ۱۹۹۱ کو اسلامیی مرکز میں آئے۔ اور "ہندوستانی مسلمانوں کے مسائل" کے موضوع پر صدر اسلام مرکز سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ آخر میں انھیں انگریزی کے متعلقہ مضامین دیے گئۓ۔

۳۔ ایک صاحب لکھتے ہیں : الرسالہ جنوری ۱۹۹۱ میں نے حضرت مفتی شیخ الحدیث مولانا ریاست علی صاحب مدظلہ العالی کو پڑھ کر سنایا۔ حضرت مولانا نے جناب والا کو دور حاضر کا عظیم مبلغ اسلام فرمایا۔ میں خود فلسفہ کے اسکالر ہونے کی حیثیت سے آپ کو وقت کا ایک عظیم فلسفی سمجھتا ہوں (محمد شفیع، پرگتی میدان، نئی دہلی)

۴۔ نئی دہلی کے انگریزی اخبار ہندوستان ٹائمس نے اپنے شمارہ ۶ جنوری ۱۹۹۱ میں صدر اسلامی مرکز کا ایک مفصل آرٹیکل شائع کیا ہے۔ یہ آرٹیکل بابری مسجد - رام جنم بھومی کے مسئلہ پر ہے اس آرٹیکل میں کہا گیا ہے کہ اس نزاع کو ثالثی کے اصول پر حل کرنا چاہئے۔ نئی دہلی میں ۲۰ دسمبر ۱۹۹۰ کو ایک مشترک اجتماع ہوا۔ صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور تقریباً آدھ گھنٹہ کی ایک تقریر کی۔ تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ اسلام ہی وہ نظام فکر ہے جو سائنس کے نظریاتی سوالات کو حل کرتا ہے اور اسی کے ساتھ وہ محفوظ دین ہونے کی وجہ سے انسان کی روحانی و مذہبی تلاش کا واحد جواب ہے۔

۵۔ الرسالہ کے مضامین اپنی عمومی افادیت کی بنا پر برابر ملک کے مختلف پرچوں میں نقل کئے جارہے ہیں۔ مثلاً الرسالہ انگریزی کا ایک مضمون نئی دہلی کے انگریزی جنرل پرافٹیبلی یورس (Profitably Yours) کے شمارہ جولائی - دسمبر ۱۹۹۰ میں نقل کیا گیا ہے ۶۔ مسٹر دیوی سرن (بھوپال) لکھتے ہیں: الرسالہ ہر ماہ مل جاتا ہے۔ آپ جس طرح بات کو ذہن نشیں کراتے ہیں وہ صرف آپ کا ہی حصہ ہے۔ میں آپ کے طرز تحریر کا اور نفس مضمون کی افادیت کا بےحد قائل ہوں۔ اردو کے علاوہ ہندی اور انگریزی بھی جانتا ہوں، اس لئے مجھے تینوں زبانوں کا استفادہ حاصل ہے۔ ہندی کا الرسالہ بھی خوب ہے۔ اس سے ہندی داں طبقہ کو فائدہ ہوگا۔ اس کا یقین ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1991 All issues

Printed page