Al-Risala · May 1991 · page 9

Countdown to zero

الرسالہ، مئی ۱۹۹۱، صفحہ ۹

لاہور کے روزنامہ نوائے وقت (۱۸ جنوری) کے پہلے صفحہ پر ایک خبر نمایاں سرخی کے ساتھ چھپی تھی کہ کراچی سے خیبر تک تمام پاکستانی مسلمان امریکہ کی مخالفت اور صدام حسین کی حمایت میں متحد ہو گئے۔ اسی اخبار میں "امریکہ دشمن نمبر ۱" کے عنوان کے تحت ایک مضمون شائع ہوا ہے ۔ اس کا ایک پیرا گراف یہ ہے : "امریکہ کے صدر بش کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ ان کی بدولت پاکستان کے تمام طبقے اور تمام مکاتب فکر پہلی دفعہ امریکہ دشمنی کے حوالے سے ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہو گئے ہیں۔ اس وقت پوری پاکستانی قوم امریکہ کو عالم اسلام کا دشمن نمبر ایک سمجھ رہی ہے۔ سمجھتی تو شاید پہلے بھی رہی ہے۔ لیکن اس کا بھر پور اور متفقہ اظہار پہلی دفعہ (امریکہ کے عراق پر حملہ کے بعد ہو رہا ہے" (صفحہ ۲)

آج کل مسلمانوں کے اخباروں میں بار بار ایسی رپورٹیں اور مضامین چھپ رہے ہیں جن میں "عالمی اسلامی اتحاد" کی خبر دی جاتی ہے۔ مگر یہ اتحاد محض ایک منفی اجتماع ہے۔ اور منفی اجتماع اپنی حقیقت کے اعتبار سے کوئی اتحاد نہیں۔ وہ محض ایک وقتی قسم کی بھیڑ ہے نہ کہ کوئی حقیقی اور پائیدار اتحاد۔ اس قسم کا اتحاد صرف قوم کی کمزوری کو بتاتا ہے نہ کہ فی الواقع اس کی قوت و طاقت کو ۔

موجودہ زمانہ میں مسلمانوں میں جب بھی کوئی بڑا اتحاد ہوا ہے، وہ منفی بنیاد پر ہوا ہے۔ بیسویں صدی کے آغاز میں برصغیر ہند کے مسلمان "خلافت" کے نام پر متحد ہوئے۔ مگر یہ کوئی مثبت اتحاد نہ تھا، وہ صرف انگریز دشمنی کے جذبہ کے تحت ظہور میں آیا تھا۔ اسی طرح موجودہ صدی کے وسط میں مسلمان مسلم لیگ کے جھنڈے کے نیچے متحد ہو گئے۔ یہ اتحاد بھی کوئی مثبت واقعہ نہ تھا۔ وہ تمام تر ہندو دشمنی کے جذبہ کے تحت برپا ہوا تھا۔ اب صدی کے آخر میں مسلمان پھر متحد نظر آرہے ہیں۔ مگر یہ اتحاد بھی صرف امریکہ دشمنی کے جذبہ کے تحت ظاہر ہوا ہے، اس اتحاد کے پیچھے کوئی مثبت بنیاد موجود نہیں۔ اس لیے وہ باقی رہنے والا بھی نہیں۔ موجودہ زمانہ کے مسلم رہنما اس قسم کے اتحادی واقعات پر بار بار خوشیوں کے چراغ جلاتے ہیں۔ مگر شام کے جلائے ہوئے چراغ صبح کو بجھ جاتے ہیں۔ اور اس کے بعد ملت بدستور اختلاف و انتشار کے اندھیروں میں ڈوبی ہوئی نظر آنے لگتی ہے۔

مثبت بنیاد پر جمع ہونا حقیقی اتحاد ہے، منفی بنیاد پر جمع ہونا محض ایک بے معنی بھیڑ۔ اتحاد کسی قوم میں شعوری عمل سے آتا ہے اور بھیڑ صرف جذباتی الفاظ سے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1991 All issues

Printed page