Countdown to zero
الرسالہ، مئی ۱۹۹۱، صفحہ ۱۷
عراقی لیڈر کی بلند بانگ تقریریں اخباروں میں چھپ رہی ہیں۔ مثلاً انہوں نے کہا کہ عرب کے صحرا امریکیوں اور اتحادیوں کا قبرستان بنا دیا جائے گا۔ اس طرح کی باتیں مسلمانوں کو مجاہدانہ معلوم ہوتی ہیں۔ دوسری طرف سعودی عرب کے شاہ فہد کی بات مسلمانوں کو کمتر محسوس ہوتی ہے ، کیونکہ انہوں نے امریکہ اور اس کے حلیفوں سے اتحاد کر لیا ہے۔ آج ایک صاحب نے بتایا کہ جامع مسجد کے علاقہ میں دیواروں پر ایسے پوسٹر لگائے گئے ہیں جن پر لکھا ہوا ہے : سعودی اور یہودی ایک سکہ کے دو رخ ۔ ایک مسجد میں نماز ختم ہوئی تو ایک مسلمان نے ہاتھ اٹھا کر کہا : خدایا ، سعود اور یہود کو ہلاک کر دے۔
خلیج کی نزاع میں کون حق پر ہے اور کون ناحق پر ، اس کو سمجھنے کے لیے احادیث کا مطالعہ کیا جائے تو بظاہر یہ سمجھ میں آتا ہے کہ اس معاملہ میں سعودی عرب حق پر ہے اور دوسرا گروہ ناحق پر۔ امام الترندی نے عمر بن عوف رضی اللہ عنہ سے ایک روایت نقل کی ہے جس میں یہ قرینہ ملتا ہے کہ آخر زمانہ میں حق جزیرہ عرب کی طرف ہوگا۔ اس روایت کے مطابق ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دین حجاز میں پناہ لے گا جس طرح سانپ اپنی بل میں پناہ لیتا ہے ( ان الدين ليأرز الى الحجاز كما تأرز الحَيَّةُ إِلى جُحَرِها ) جامع الاصول في احاديث الرسول، ۹ / ۲۴۱ دوسری روایت میں موجودہ حالات کے بارہ میں براہ راست اشارہ ملتا ہے۔ امام ابوداؤد نے " کتاب الملاحم “ میں نقل کیا ہے کہ ذو مخبر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ تم آئندہ روم (عیسائیوں) سے پر امن صلح کر دو گے۔ پھر تم اور وہ دونوں ایک اور دشمن سے لڑو گے۔ پھر تم لوگوں کو فتح ہوگی۔ تم غنیمت حاصل کرو گے اور سلامت رہو گے۔ پھر تم لوگ واپس ہوگے، یہاں تک کہ تم ایک چراگاہ میں ٹھہرو گے جہاں ٹیلے ہوں گے۔ اس وقت عیسائیوں میں سے ایک شخص صلیب اٹھائے گا اور کہے گا کہ صلیب غالب آئی۔ پھر مسلمانوں میں سے ایک شخص کو غصہ آئے گا، وہ صلیب کو توڑ دے گا۔ اس وقت روم (عیسائی) عہد کو توڑ دیں گے اور جنگ کے لیے جمع ہو جائیں گے (سنن ابی داؤد، ۴ / ۱۰۹)
ان احادیث کی موجودگی میں مسلمانوں کی موجودہ روش یقینی طور پر درست نہیں۔ یہ صرف خواہش پرستی ہے نہ کہ قرآن و سنت کی پیروی۔