Countdown to zero
الرسالہ، مئی ۱۹۹۱، صفحہ ۱۸
انڈڈیا کے ایک انگریزی جرنلسٹ مسٹر این نہال سنگھ خلیجی جنگ کے زمانے میں بغداد میں تھے۔ انھوں نے اپنے کچھ تجربات ہندوستان ٹائمز (۲۹ جنوری) میں شائع کیے ہیں۔
وہ لکھتے ہیں کہ وہ کچھ اور صحافیوں کے ساتھ بغداد کے ممتاز ہوٹل الرشید میں مقیم تھے مگر اس کا حال یہ تھا کہ کسی بھی بل کی ادائیگی کے لیے صرف امریکی ڈالر ہی واحد قابل قبول سکہ تھا۔ یہاں امریکہ انتہائی نفرت کی علامت تھا، مگر عملاً امریکی ڈالر ہی بغداد پر حکومت کر رہا تھا :
Much as the United States was the hated symbol of Western might, the یہ واقعہ علامتی طور پر بتاتا ہے کہ آج امریکہ اور ترقی یافتہ مغربی ممالک نے کس طرح تمام ذرائع پر قبضہ کر رکھا ہے۔ آپ امریکہ جائیے تو آپ دیکھیں گے کہ جو مسلمان امریکہ سے نفرت کرتے ہیں، وہی اپنے مستقبل کی تعمیر کے لیے امریکہ کو اپنا وطن بنائے ہوئے ہیں۔
ایسی حالت میں کرنے کا سب سے پہلا کام یہ ہے کہ مسلم دنیا کو جدید سائنسی میدانوں میں ترقی یافتہ بنایا جائے ۔ مگر اس رخ پر کسی بھی مسلم ملک میں کوئی قابل ذکر کام نہیں ہورہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلم ملکوں کو پٹرول کا خزانہ دے کر وہ اقتصادی طاقت دے دی تھی جس کے ذریعہ مسلم دنیا اپنے ترقیاتی منصوبوں کو مکمل کر سکے مگر اس قدرتی خزانہ کو کچھ ممالک عیش وعشرت کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ اور کچھ ممالک یہ کر رہے ہیں کہ مغربی ملکوں سے خطرناک ہتھیار خرید کر خود مسلم ملکوں کے خلاف جارحانہ کارروائی کریں جس کی بدترین مثال وہ ہے جو عراق نے پیش کی ہے۔
صدام حسین کو پٹرول کی صورت میں مفت کی دولت مل گئی۔ اس دولت کو انھوں نے عراق کی ترقی میں نہیں لگایا۔ انھوں نے یہ کیا کہ روس، جرمنی، فرانس وغیرہ سے مہلک ہتھیار خرید کر پڑوسی ملکوں کو چیلنج کرنے لگے ۔ اس کے برعکس اگر وہ اس قدرتی دولت کو ملک کی ترقی میں لگاتے تو عین ممکن تھا کہ عراقی سکہ بھی وہی اقتصادی اہمیت حاصل کر لے جو آج امریکی ڈالر کو حاصل ہے۔
مسلمانوں کی بربادی کا سبب ان کی یہی داخلی کمزوری ہے نہ کہ کوئی بیرونی سازش۔ جو لوگ بیرونی سازشوں کی خبریں چھاپتے ہیں وہ صرف اپنی بے خبری کا ثبوت دے رہے ہیں۔