Countdown to zero
الرسالہ، مئی ۱۹۹۱، صفحہ ۱۹
لندن کے ایک مسلمان سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ لندن کے تمام مسلمان خلیج کے موجودہ بحران میں صدام حسین کے حامی ہیں۔ صرف وہ تھوڑے سے مسلمان جن کو سعودی عرب سے پیسہ ملتا ہے، وہ سعودی عرب کا ساتھ دے رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ یہ تو کوئی دلیل نہیں۔ اس بات کو الٹ کر اگر میں یہ کہوں کہ جو لوگ صدام حسین کے حامی ہیں ان کو عراق کی حکومت نے پیسہ دے رکھا ہے تو آپ کے پاس اس کا کیا جواب ہوگا۔ میں نے کہا کہ صدام حسین کو اگر حملہ کرنا تھا تو انہوں نے اسرائیل پر حملہ کیوں نہیں کیا۔ کویت پر کیوں حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں لندن میں عراق کے سفیر سے ملا تھا۔ میں نے پوچھا کہ آپ نے کویت پر کیوں حملہ کیا۔ سفیر نے کہا کہ اصل میں تو ہم اسرائیل پر حملہ کرنا چاہتے تھے، ہم نے سعودی عرب اور کویت سے کہا کہ اس معاملہ میں ہمارا ساتھ دو، مگر وہ ساتھ دینے کے لیے تیار نہیں ہوئے۔ اس لیے ہم کو ایسا کرنا پڑا۔ میں نے کہا کہ آپ کو سفیر عراق سے پوچھنا چاہیے تھا کہ جب آپ نے سعودی عرب اور کویت کی حمایت کے بغیر ایران اور کویت پر حملہ کر دیا تو اسی طرح آپ ان کی حمایت کے بغیر اسرائیل پر بھی حملہ کر سکتے تھے۔ پھر انہوں نے کہا کہ اصل بات یہ ہے کہ عراقی سفیر کے بیان کے مطابق، عراق کو یہ خطرہ تھا کہ جب وہ اسرائیل پر حملہ کرے گا تو امریکہ کی فوجیں خلیج میں عراق کے خلاف آ جائیں گی۔ میں نے کہا کہ آپ کو عراقی سفیر سے دوبارہ کہنا چاہیے تھا کہ امریکی فوج تو کویت پر حملہ کی صورت میں بھی مکمل طور پر خلیج میں آگئی ہے۔ پھر جس طرح کویت پر حملہ کے وقت آپ نے امریکی فوج کی آمد کی پروا نہیں کی، اسی طرح آپ اسرائیل پر حملہ کے وقت بھی امریکی فوج کی آمد سے بے پروا ہو کر اسرائیل کے خلاف اپنی فوجی کارروائی کر سکتے تھے۔ یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی سوچ کتنی زیادہ سطحی ہوگئی ہے اور مسلمانوں کے لیڈرس طرح مسلمانوں کی کم فہمی کا استغلال کر رہے ہیں۔ انسان کا حال یہ ہے کہ وہ ذاتی محرک کے تحت ایک اقدام کرتا ہے اور پھر اس کو جائز ثابت کرنے کے لیے اصول کی زبان بولتا ہے۔ وہ اپنی قیادت قائم کرنے کے لیے ہنگامے کھڑے کرتا ہے اور اس کو جہاد فی سبیل اللہ کا عنوان دیتا ہے۔ وہ قومی خواہش اور مادی مفاد کے تحت عمل کرتا ہے اور کہتا ہے کہ وہ حق کی خاطر ایسا کر رہا ہے۔ ایسے لوگ سرکشی کی حد تک مجرم ہیں خواہ اپنی تبریر کے لیے وہ کتنے ہی خوب صورت الفاظ بولتے رہیں۔