Muslims fear backlash
الرسالہ، مئی ۱۹۹۱، صفحہ ۲۰
ہندستان ٹائمس (31 جنوری) میں نیویارک کی ڈیٹ لائن کے ساتھ ایک رپورٹ چھپی ہے۔ اس کا عنوان ہے ــــــــ مسلمانوں کو مغرب کی طرف سے غضب ناک ردعمل کا اندیشہ :
Muslims fear backlash
اس رپورٹ میں دوسرے حوالوں کے ساتھ مسٹر کلیم خواجہ کا بیان نقل کیا گیا ہے۔ وہ امریکہ کی ایسوسی ایشن آف انڈین مسلمز کے صدر ہیں۔ امریکہ میں اس وقت ایک لاکھ (100,000) ہندستانی مسلمان رہتے ہیں۔ تاہم جو مسئلہ پیدا ہوا ہے وہ امریکہ اور دوسرے مغربی ملکوں میں بسنے والے تمام مسلمانوں کے بارے میں ہے ۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خلیج کی جنگ اور اس معاملے میں مسلمانوں کے عام رویہ نے مغرب کی مسیحی قوموں میں ان کے خلاف سخت نفرت اور غصہ پیدا کر دیا ہے۔ وہ اس صورت حال کا شکار ہو رہے ہیں، جس کو مسٹر خواجہ نے نسلی غضب ناکی (racist backlash) کا نام دیا ہے۔ مغربی ملکوں میں بسنے والے مسلمانوں کو نہ صرف تحقیر کا تجربہ ہو رہا ہے بلکہ ان کے خلاف تشدد کے واقعات بھی ہو رہے ہیں۔ مسلمانوں کے پر جوش مظاہروں نے خلیج کی جنگ کو اسلام اور عیسائیت کی جنگ بنا دیا ہے۔ اس نے غیر ضروری طور پر لوگوں میں صلیبی دور کی یادیں تازہ کر دی ہیں۔
مسٹر کلیم خواجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ انھیں یہ پریشانی بھی ہے کہ خلیج کی جنگ سے پیدا شدہ اس صورت حال کا اثر جنوب ایشیائی ملکوں (مسلم ممالک) کی اقتصادیات پر بھی پڑے گا۔ انھوں نے کہا کہ اس کا ایک فوری اثر یہ متوقع ہے کہ تیسری دنیا کے ملکوں کی طرف ٹکنالوجی کی آمد رک جائے گی۔ یہ ان ملکوں کے لیے ترقی میں رکاوٹ کے ہم معنی ثابت ہو گا :
One immediate effect that can be expected, will be a halt of the supply of technology to third world countries. That will prove to be a major set- back. (p. 14)
امریکہ کے مسلم لیڈر کو موجودہ حالات کا یہ خطر ناک نتیجہ نظر آتا ہے کہ مغربی ملکوں سے مسلم ملکوں کی طرف ٹکنالوجی کے آنے میں رکاوٹ پڑے گی۔ مگر میری نظر میں اس سے بڑا خطرہ وہ توتی ہے۔ خلیج کی جنگ میں مسلمانوں کے پرجوش رویہ نے مسلمانوں اور مغرب کی مسیحی قوموں کے درمیان جو نفرت پیدا کی ہے، اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوگا کہ ان قوموں کے اندر اسلام کی اشاعت کا عمل رک جائے گا۔ یا کم از کم اس کو نا قابل تلافی نقصان پہنچے گا۔