Al-Risala · May 1991 · page 21

یکم فروری ۱۹۹۱

الرسالہ، مئی ۱۹۹۱، صفحہ ۲۱

یکم فروری ۱۹۹۱

ایک صاحب ایک اردو ماہنامہ لے کر آئے اور کہا کہ اس کے شندرات کو پڑھئے۔ اس میں لکھا ہوا تھا: ’’امریکہ کے سخت رویہ اور مسلمانوں کو کچل دینے کی پالیسی نے عرب کی سرزمین کو اس وقت میدان کار زار میں تبدیل کر دیا ہے جہاں مانند آب مسلمان کا لہوارزاں ہو گیا ہے اور تثلیث کے فرزند کھلم کھلا میراث خلیل میں در اندازی کر رہے ہیں۔ حالانکہ نبی آخر الزماں کا ارشاد ہے کہ اخرجو اليهود والنصاري من جزيرة العرب (جزیرۂ عرب سے یہود و نصاریٰ کو نکال دو) اور قرآن مجید میں ان سے عدم موالات کا حکم دیا گیا ہے (لا تتخذوا اليهود والنصاری اولیاء) مگر آپ کے پیروؤں اور خالص وارثوں نے ان کو اپنا حلیف بنا لیا ہے۔ اور اب ان کا لشکر جزيرة العرب میں دندناتا پھر رہا ہے۔ اور مسلمانوں کے اہم اور مرکزی شہر ناگاساکی اور ہیروشيما بنتے جا رہے ہیں‘‘۔ (معارف فروری ۱۹۹۱)

میں نے انہیں عربی ہفت روزہ الدعوة کے شمارے (۳۱ جنوری ، ۲۱ فروری ۱۹۹۱) دکھائے۔ ان میں شیخ ابن باز نے اضطرار کے اسلامی اصول کے تحت غیر مسلم حکومتوں سے تعاون لینے کو جائز قرار دیا ہے۔ ان مضامین کو دیکھ کر وہ بگڑ گئے۔ انھوں نے کہا کہ جو مولوی اس قسم کی باتیں کرتے ہیں وہ سب سعودیہ کے نمک خوار ہیں، وہ امریکہ کے ایجنٹ ہیں۔

یہی موجودہ زمانہ کے مسلمانوں، خاص طور پر ان کے ’’لکھنے اور بولنے والے طبقہ‘‘ کا عام انداز ہے۔ یہ لوگ اختلاف رائے کو برداشت نہیں کر سکتے۔ اختلاف رائے پیش آتے ہی وہ طنز و تعریض اور عیب جوئی اور الزام تراشی کا انداز اختیار کر لیتے ہیں وہ تنقید کا جواب صرف تعیب سے دینا جانتے ہیں۔ اسلام میں صرف یہود و نصاریٰ کے جغرافی اخراج کا حکم نہیں ہے۔ اس سے بھی زیادہ شدت کے ساتھ نفسیاتی امراض کے قلبی اخراج کا حکم دیا گیا ہے۔ ہر مسلمان پر فرض ہے کہ وہ دوسرے مسلمان سے بغض نہ رکھے۔ وہ انانیت میں مبتلا نہ ہو۔ وہ بے انصافی نہ کرے، وہ دوسرے کا بد خواہ نہ بنے۔ وہ انتقامی جذبہ کو اپنے دل سے نکال ڈالے۔ وہ کسی کی کردار کشی نہ کرے کسی کی نیت پر حملہ نہ کرے۔ وہ کسی کی طرف غلط بات منسوب نہ کرے۔ وہ کسی کی بربادی کے درپے نہ ہو۔

مگر اس دوسرے’’اخراج‘‘سے کسی کو کوئی دل چسپی نہیں۔ جغرافی اخراج کے چیمپین قلبی اخراج کے معاملہ میں بے حقیقت ثابت ہو رہے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1991 All issues

Printed page