Al-Risala · May 1991 · page 22

یکم فروری ۱۹۹۱

الرسالہ، مئی ۱۹۹۱، صفحہ ۲۲

ٹائمس آف انڈیا (۲ فروری) میں مسٹر شام لال کا ایک آرٹیکل چھپا ہے۔ خود آرٹیکل میں تو کوئی گہری بات نہیں، البتہ اس کا عنوان مجھے پسند آیا جو ان الفاظ میں ہے __ لڑائی جیتو اور امن ہار دو : Win the War; Lose the Peace خلیج کی جنگ میں پچھلے دو ہفتہ کے اندر تقریباً پچاس بلین ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔ یہ نقصان مزید بڑھتا رہے گا۔ جنگ میں خواہ جو فریق جیتے، جہاں تک امن کا تعلق ہے، وہ بہ ہرحال کھویا جا چکا ہو گا۔ بنگلہ دیش کی جنگ (۱۹۷۱ء) میں انڈیا جیت گیا۔ مگر اس کے بعد ملک میں تشدد اور مہنگائی اور کرپشن کا جو طوفان آیا اس نے امن اور سکون کو ہمیشہ کے لیے غارت کر دیا۔

یہی حال خلیج کی جنگ کے بعد بھی زیادہ بڑے پیمانے پر ہونے والا ہے۔ اس جنگ میں فتح کا تمغہ جس فریق کو بھی ملے، عام انسان کی مصیبتوں میں بے پناہ اضافہ ہو جائے گا۔ اور یہ مصیبتیں عالمی ہوں گی، حتیٰ کہ اس کا برا اثر اس ملک تک بھی پہنچ جائے گا جس نے جنگ کے بعد فتح کا تمغہ حاصل کیا ہے۔ جنگ خواہ چھوٹی ہو یا بڑی، وہ مسائل کے حل کے نام پر لڑی جاتی ہے، مگر ہر جنگ صرف مسائل میں اضافہ کرتی ہے۔ ایک مغربی مفکر نے بالکل صحیح کہا کہ مسائل ہمیشہ وہ لوگ پیدا کرتے ہیں جو مسائل حل کرنے کے لیے سرگرم ہوتے ہیں :

Problems are created by problem-solving activity. جنگوں کی تاریخ میں معلوم طور پر ایک ہی استثنائی نمونہ ہے، اور وہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے۔ پیغمبر اسلام کا دوسروں سے ٹکراؤ پیش آیا۔ مگر آپ نے جنگ کا طریقہ اتنا کم استعمال کیا کہ عملاً اور مقابلاً وہ جنگ نہ کرنے کے برابر ہے۔ اس کے باوجود آپ نے انسانی مسائل کو اتنے کامیاب طور پر حل کیا کہ تاریخ میں اس کی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔

پیغمبر اسلام کے ساتھ وہ تمام احوال پیش آئے جن کے نام پر جنگ کی جاتی ہے۔ مگر آپ نے جنگ کے بجاے امن کی طاقت سے ان کا مقابلہ کیا۔ مسلمان اگر اپنے پیغمبری اس سنت کو زندہ کریں، وہ دنیا کو دوبارہ دکھائیں کہ امن کی طاقت کس طرح سب سے بڑی طاقت ہے تو وہ نہ صرف خود اپنی جنگ لڑائی کے بغیر جیت لیں گے، بلکہ اس ربانی طریقہ کا مظاہرہ کرکے وہ قوموں کے امام بن جائیں گے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1991 All issues

Printed page