یکم فروری ۱۹۹۱
الرسالہ، مئی ۱۹۹۱، صفحہ ۲۳
آج کل اخبارات کا پہلا صفحہ خلیج کی جنگ کی خبروں سے بھرا ہوا ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ مزید خصوصی صفحات صرف اسی جنگ کے بارہ میں ہوتے ہیں جن کے اوپر جلی حرفوں میں لکھا ہوا ہوتا ہے : خلیجی جنگ (The Gulf War) ہندوستان ٹائمز (۳ فروری) کا صفحہ ۴۱ اسی قسم کا ایک صفحہ ہے۔ اس میں حسب معمول خلیج کی جنگ سے متعلق خبریں شائع ہوئی ہیں۔
جنگ کی ہلاکت کی خبروں کے درمیان ایک بلاعنوان خبر چار سطروں میں ہے۔ وہ یہ ہے ۔ ایک شخص جس پر الزام تھا کہ اس نے ۱۹۸۸ سے اب تک نیویارک کے راشٹر علاقے کی، عورتوں کو قتل کیا ہے، اس کو عدالت نے ۲۵۰ سال قید کی سزا دی ہے جو امریکی قانون میں ایسے مجرم کی کم سے کم سزا ہے : A man convicted of killing ten Rochester arca women in New York since 1988 has been sentenced to a minimum of 250 years in prison. اخباری ترتیب میں بظاہر یہ سب سے چھوٹی خبر ہے۔ شاید ہی کسی پڑھنے والے نے اس خبر کو پڑھا ہو مگر حقیقت کے اعتبار سے وہ بلاشبہ سب سے بڑی خبر ہے۔ مہلک جرائم کی سزا جو ملکی قوانین میں مقرر کی گئی ہے، وہ گویا انسانی ضمیر کی آواز ہے۔ یہ سزائیں دراصل انسانی ضمیر کا قانونی اظہار ہیں۔ انسانی ضمیر یہ چاہتا ہے کہ قتل کرنے والے کو قتل کیا جائے۔ یا کم از کم لمبی مدت تک کے لیے اس کو پر مشقت قید خانہ میں ڈال دیا جائے۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ انسانی ضمیر کے مطابق، ان لوگوں کی سزا کتنی زیادہ سخت ہونی چاہیے جو ایسی جنگ برپا کرتے ہیں جس میں لاکھوں افراد ہلاک ہوں ۔ کروڑوں انسان زخمی اور اپاہج ہو جائیں ۔ زندگی کے قیمتی وسائل بے حساب مقدار میں برباد ہوں۔ خشکی اور سمندر اور فضا سب فساد سے بھر جائیں۔ جن قدرتی ذرائع کو خدا نے انسانیت کی تعمیر کے لیے پیدا کیا ہے، ان کو انسانیت کی تخریب میں ضائع کر دیا جائے۔ مذکورہ قاتل مزید ۲۵۰ سال تک زندہ نہیں رہ سکتا ۔ گویا انسانی عدالت ایک انفرادی مجرم کو بھی سزا دینے کی طاقت نہیں رکھتی۔ پھر جو لوگ ساری انسانی نسل پر ہلاکت کا عذاب انڈیل دیں، ان کو سزا دینا کس کے اختیار میں ہے۔ یہ صورت حال تقاضا کرتی ہے کہ موجودہ محدود دنیا کے بجائے ایک اور لامحدود دنیا ظہور میں آئے۔ لامحدود دنیا میں قائم ہونے والی عدالت ہی کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ ایسے سرکش انسانوں کو بھر پور سزا دے سکے۔