یکم فروری ۱۹۹۱
الرسالہ، مئی ۱۹۹۱، صفحہ ۲۴
خلیج کی جنگ ۱۷ جنوری کو شروع ہوئی۔ اس وقت سے رات دن مسلسل بم باری کا سلسلہ جاری ہے۔ مگر دو ہفتہ تک سارا معاملہ تقریبا یک طرفہ رہا۔ اتحادی جہاز عراق کے اوپر آگ برساتے رہے اور صدام حسین اور ان کی فوج زمین دوز بنکروں کے نیچے بیٹھی رہی۔
۳۰ جنوری کو اس میں تبدیلی آئی۔ عراق کی زمینی فوج نے اچانک پیش قدمی کر کے سعودی عرب کی سرحدی بستی الخفجی پر قبضہ کر لیا۔ اس کے فوراً بعد اتحادیوں کی زمینی اور ہوائی فوج متحرک ہوئی۔ دو دن تک "گھمسان کی لڑائی" کی خبریں آتی رہیں۔ آخر عراقی فوج کو بری طرح شکست ہوئی۔ بڑی تعداد میں عراقی ہلاک ہوئے۔ کچھ گرفتار ہوئے اور کچھ اپنا سامان چھوڑ کر بھاگے۔
جنگ کے ایک ماہر نے کہا ہے کہ الخفجی کی جنگ عراقیوں کے لیے الٹی پڑے گی۔ اس سے پہلے امریکہ اور اس کے ساتھی عراق کی زمینی فوج سے ڈرتے تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ زمینی جنگ میں عراق کو زیر کرنا بہت مشکل ہوگا۔ مگر الخفجی کے تجربہ نے انہیں عراقی فوج کی کمزوریوں (weaknesses) کو بتا دیا۔ اس جزئی جنگ میں اتحادیوں نے پایا کہ عراقی فوج کا کمیونی کیشن کا نظام بہت کمزور تھا۔ اسی طرح عراقی فوجیوں میں مہارت (skill) کی بھی بہت کمی نظر آئی۔ مزید یہ کہ انہوں نے محسوس کیا کہ عراقی فوجی دل سے لڑنے پر تیار نہیں ہیں۔ عراقی فوجی لڑائی میں اتنے سخت نہیں تھے جتنا کہ خیال تھا کہ وہ ہوں گے :
...they were not as tough as we thought they might be تازہ رپورٹ کے مطابق، الخفجی کے بعد امریکی فوج کے حوصلے بہت بلند ہو گئے ہیں اور اب وہ منصوبہ بنا رہے ہیں کہ پوری طاقت کے ساتھ کویت اور عراق پر حملہ کر کے کم سے کم مدت میں عراقی فوج کو تباہ کر دیں۔ الخفجی کے واقعہ نے عراقی فوج کا بھرم ختم کر دیا۔ اب تقریبا یقینی نظر آ رہا ہے کہ عراقی فوج امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا مقابلہ زمینی جنگ میں نہیں کر پائے گی اور رسوا کن شکست سے دوچار ہوگی۔ خواہ دو آدمیوں کا معاملہ ہو یا دو قوموں کا معاملہ، دھاک کی بے حد اہمیت ہوتی ہے۔ آدمی اگر لڑ کر جیتنے والا ہو تو اس کو چاہیے کہ وہ خاموش بیٹھا رہے۔ نہ لڑنے سے کم از کم یہ ہوتا ہے کہ وہ فریق ثانی کے اوپر اپنی دھاک قائم رکھتا ہے، جب کہ جنگ چھڑنے کی صورت میں وہ جنگ بھی ہار جاتا ہے اور اسی کے ساتھ دشمن کی نظر میں وہ اپنی دھاک بھی کھو دیتا ہے۔