Al-Risala · May 1991 · page 25

یکم فروری ۱۹۹۱

الرسالہ، مئی ۱۹۹۱، صفحہ ۲۵

ریاض کے مشہور عربی ہفت روزہ الدعوة (۲۲ رجب ۱۱۱ھ) میں خلیج کی جنگ کے بارے میں ایک مضمون چھپا ہے۔ اس کا عنوان ہے: (الحماقة سلاح ايضا (بیوقوفی بھی ایک ہتھیار ہے) اس مضمون میں بتایا گیا ہے کہ مغرب کے فوجی افسروں میں سے ایک سے پوچھا گیا کہ اتحادی طاقتوں کے ہاتھ میں سب سے بڑا ہتھیار کیا ہے۔ اس نے جواب دیا کہ اتحادی طاقتوں کے ہاتھ میں سب سے بڑا ہتھیار صدام حسین کی بے وقوفی اور اس کا طیش اور جنون ہے۔ اور انہیں چاہیے کہ وہ اس ہتھیار سے فائدہ اٹھائیں تا کہ وہ جلد فتح حاصل کر سکیں :

سئل احد القادة العسكريين الغربيين عن ابرز الاسلحة واشدها فتكا فى يد القوات الدولية المتحالفة ـ فقال ان ابرز سلاح فى ايدى القوات المتحالفة هوغباء صدام وطيشه وجنونه وان عليهم ان يستثمروا هذا السلاح ليتمكنوا من تحقيق نصر سريع (صفحہ ۱۰)

اس پر میں یہ اضافہ کروں گا کہ کوئی بھی شخص بے وقوف نہیں ہوتا۔ مشہور قول کے مطابق، کسی چیز کے لیے بڑھی ہوئی محبت آدمی کو اندھا اور بہرا بنا دیتی ہے (حبک الشئی یعمی ویصم) صدام حسین کی اصل کمزوری ان کا جنون عظمت ہے۔ اپنے آپ کو بڑا دیکھنے کے شوق نے ان کو مجنون بنا دیا۔ اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ وہ ایسے اقدامات کر ڈالتے ہیں جو ان کی واقعی طاقت سے باہر ہوتے ہیں۔

۱۹۷۹ میں عراق کے اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد وہ مسلسل اسی قسم کی احمقانہ کارروائیاں کرتے رہے ہیں۔ ستمبر ۱۹۸۰ میں انھوں نے الجزائرمعاھدہ (۱۹۷۵) کو یک طرفہ طور پر منسوخ کر کے ایران پر حملہ کر دیا اور آٹھ سال تک بے فائدہ اس سے لڑاتے رہے۔ اسی طرح ۲ اگست ۱۹۹۰ کو انھوں نے اچانک کویت پر حملہ کر کے اپنے آپ کو اتنی بڑی مشکل میں پھنسا لیا جس سے نمٹنے کی طاقت ان کے اندر نہیں۔ ایمان آدمی کے اندر تواضع پیدا کرتا ہے، اور جس آدمی کے اندر تواضع کی صفت پیدا ہو جائے وہ ہر قسم کی حماقتوں سے بچ جائے گا۔ وہ ایسی طاقت بن جائے گا بڑے سے بڑا دشمن بھی اس کو زیر نہ کر سکے۔ حماقت اکثر حالات میں اپنے آپ کو بڑا سمجھ لینے کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے۔ ایمان آدمی کو بڑائی کے جذبے سے بچالیتا ہے، اس لیے ایمان آدمی کو احمقانہ کارروائی سے بھی بچا لیتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1991 All issues

Printed page