Al-Risala · May 1991 · page 26

یکم فروری ۱۹۹۱

الرسالہ، مئی ۱۹۹۱، صفحہ ۲۶

میزائل (missile) سب سے پہلے جرمنوں نے دوسری عالمی جنگ میں استعمال کیا تھا۔ اس کے بعد روس اور امریکہ وغیرہ نے اس کو مزید ترقی دے کر خطرناک قسم کے دور مار ہتھیار کی حیثیت دے دی۔ یہ ایک پیچیدہ مشین ہے جس کے سرے پر دھماکا خیز چیزیں نصب ہوتی ہیں۔ اس کو لانچر کے ذریعہ دور کے نشانہ پر پھینکا جاتا ہے۔ اس کی رفتار ریڈیو کی لہروں کے ذریعہ کنٹرول ہوتی ہے۔ وہ نہایت تیز پٹاخہ کی طرح فضا میں اڑتے ہوئے مطلوبہ نشانہ پر جاکر گرتا ہے۔

جرمن ٹیکنالوجی کو مزید ترقی دے کر روسیوں نے ایک خطرناک مزائل بنایا جس کو اسکڈ (Scud) کہا جاتا ہے۔ یہ اسکڈ مزائل عراق نے بڑی تعداد میں سوویت روس سے خرید کر حاصل کیے اور ان کو مزید ترقی دے کر اس قابل بنایا کہ ان کو دور کے نشانوں پر مارا جاسکے۔

عراق کے صدر صدام حسین کو اپنے اسکڈ مزائل پر بہت اعتماد تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ اسکڈ کی صورت میں ان کے پاس ایسا ہتھیار ہے کہ وہ حیران کن طور پر اپنے دشمنوں پر ضرب لگا سکتے ہیں۔ خلیج کی جنگ کے دوران انھوں نے ان کو مسلسل استعمال کیا۔ تقریباً ڈیڑھ درجن اسکڈ مزائل انھوں نے اسرائیل کے شہروں (حیفہ اور تل ابیب) پر پھینکے۔ اتنے ہی اسکڈ انھوں نے سعودی عرب (ظہران اور ریاض) نیز بحرین پر پھینکے مگر عملاً ان کے اسکڈ مزائل غیر مؤثر ہو کر رہ گئے۔ کیوں کہ امریکی ”پیٹریٹ“ نے ان کو نشانہ پر پہنچنے سے پہلے مار کر گرا دیا۔ اس کا قصہ یہ ہے کہ روس نے جب اسکڈ مزائل بنائے تو امریکہ نے بھی ریسرچ شروع کر دی کہ اس کا توڑ کس طرح کیا جاسکتا ہے۔ چنانچہ امریکہ نے ایک جوابی مزائل تیار کیا جس کو پیٹریٹ مزائل کہا جاتا ہے۔ پیٹریٹ

‹ Previous page Next page › Contents of May 1991 All issues

Printed page