بے بنیاد خوف
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۱، صفحہ ۲۲
کے ساتھ ہوا جنہوں نے پچاس برس کے اندر اسلام قبول کر لیا۔ حتیٰ کہ چالیس ہزار سال تک قیامت کی آمد بھی رکی رہے۔ وغیرہ۔
اس طویل مدت کے دوران اگر کوئی بھی ناموافق صورت حال پیش آجائے تو مذکورہ عمل کی تکمیل کی مدت دگنا یا اس سے بھی زیادہ ہو جائے گی۔ کیا کوئی شخص بقید ہوش وحواس اس قسم کے ایک عمل پر یقین کر سکتا ہے۔ کیا تاریخ میں کسی بھی ایسے انسانی ظلم کی مثال موجود ہے جو چالیس ہزار سال تو درکنار، چار سو سال بھی مسلسل جاری رہا ہو۔ پھر اس قسم کے بے بنیاد مفروضہ سے اندیشہ کرنے کی کیا ضرورت۔
”دوسرا آپین“ نحوی اعتبار سے صحیح مگر حقیقت کے اعتبار سے سراسر غلط ہے۔ بہت سے فیصلہ کن پہلو ہیں جنھوں نے موجودہ زمانہ کو قدیم زمانہ سے بالکل مختلف بنا دیا ہے۔ وہ مذہبی تشدد کا زمانہ تھا، آج مذہبی رواداری کا زمانہ ہے۔ وہ بادشاہت کا دور تھا، اب جمہوریت کا دور ہے۔ وہ واقعہ پریس کے دور سے پہلے پیش آیا۔ اب پریس اور ریڈیو کے دور نے صورت حال کو یکسر بدل دیا ہے۔ اُس وقت کوئی ”اقوام متحدہ“ نہ تھا، آج اقوام متحدہ کی صورت میں انسانی حقوق کے تحفظ کا بین اقوامی ادارہ موجود ہے جس کا خود ہندوستان بھی ایک رکن ہے اور جس کے چارٹر پر اس نے بھی دستخط کئے ہیں۔ وغیرہ، وغیرہ مزید یہ کہ اس قسم کے بھیاانک واقعات کبھی بھی تاریخ میں دوسری بار دہرائے نہیں جاتے۔ اس قسم کا وحشیانہ واقعہ جب ایک بار پیش آکر مشہورِ عام ہو جائے تو پورا عالمی ضمیر اس کے خلاف متحرک ہو جاتا ہے۔ اس طرح ایسے کسی واقعہ کا ایک بار پیش آنا بندات خود اس کے لئے مانع بن جاتا ہے کہ وہ دوبارہ پیش آئے۔
اس کی ایک مثال یہ ہے کہ امریکہ نے جاپان میں ۱۹۴۵ میں دو ایٹم بم گرائے۔ مگر اس کے بعد ویت نام کی جنگ پیش آئی تو ایٹم بم رکھتے ہوئے بھی وہ ان کو استعمال نہ کر سکا۔ امریکہ کے لئے یہ جنگ قومی ساکھ کی جنگ تھی۔ اس نے اس بارہ سالہ جنگ میں اپنی تمام طاقت لگادی۔ حتیٰ کہ امریکہ کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ ایک جنگ میں اس کے ۸۰۰۰ فوجی ہلاک ہو گئے۔ اس کے باوجود امریکہ کے لئے یہ ممکن نہ ہو سکا کہ وہ اس جنگ کا فیصلہ اپنے حق میں کرنے کے لئے ایٹم بم استعمال
‹ Previous page Next page › Contents of January 1991 All issues