بے بنیاد خوف
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۱، صفحہ ۲۳
کرے ۔ آخر کار امریکہ جنوری ۳ ۱۹۷ میں یک طرفہ پر اس جنگ سے علیحدہ ہو گیا۔ بالفاظ دیگر، امریکہ نے ویت نام میں پسپائی اختیار کر لی مگر وہ دوسری بار ایٹم بم گرانے کی ہمت نہ کر سکا۔ جو لوگ دوسرے اسپین کی باتیں کرتے ہیں وہ صرف یہ ثابت کر رہے ہیں کہ وہ بولنا نہیں جانتے۔ ایسے ہی لوگوں کے لئے حدیث میں ارشاد ہوا ہے : من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فليقل خيرا أو ليصمت ( جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اس کو چاہئے کہ خیر کی بات بولے ورنہ خاموش رہے)
خلاصہ کلام
جو لوگ " دوسرے اسپین " کی بات کرتے ہیں ، ان کا کہنا ہے کہ ہندو نازی پچھلے پچاس سال سے خاتمہ نسل کے اس منصوبہ کو زیر عمل لانے میں مصروف ہیں۔ مگر خود یہی واقعہ اس خطرے کو بے اصل ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ خاتمہ نسل کی اس منظم کوشش کے باوجود پچھلے پچاس سال کے اندر اس ملک میں مسلمانوں کی تعداد دگنی سے بھی زیادہ ہو گئی ہے۔
عقل کہتی ہے کہ تاریخ کے بارہ میں پیشگی اندازے اکثر غلط ثابت ہوتے ہیں۔ اسلام بتاتا ہے کہ اس دنیا میں جو کچھ ہوتا ہے ، فیصلہ خداوندی کے تحت ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں عقل اور دین دونوں کا تقاضا ہے کہ اگر کوئی خطرہ فی الواقع عملاً پیش آجاۓ تو اس سے بچنے کی تدبیر ضرور کرنا چاہئے۔ مگر جو خطرہ پیش نہیں آیا، جو ابھی مستقبل کے مفروضہ خطرہ کی حیثیت رکھتا ہے ، اس کی بابت سوچ کو غیر ضروری طور پر اپنے آپ کو پریشان نہ کیا جائے۔
دوسرے اسپین کا معاملہ تو اس سے بھی آگے کا ہے۔ اب تک کے تمام عقلی اور تاریخی اندازوں کے مطابق وہ سرے سے وقوع میں آنے والا ہی نہیں۔ پھر ایسے بے بنیاد خطرہ کا اندیشہ کرنے کی کیا ضرورت۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1991 All issues