A Patriot a day keeps Scuds away
الرسالہ، مئی ۱۹۹۱، صفحہ ۴۲
سعودی عرب کے شاہ فہد اور کویت کے امیر الصباح کی دعوت پر امریکہ اور دوسرے ۲۸ مغربی ملکوں کی فوجیں تقریباً پانچ لاکھ کی تعداد میں خلیج کے علاقہ میں جمع ہیں اور عراقی صدر صدام حسین کے خلاف تباہ کن جنگ میں مصروف ہیں۔ صدام نواز مسلمان ساری دنیا میں اس پر سخت اعتراض کر رہے ہیں۔ ہندوستان کے مسلم اخبارات میں اس قسم کی سرخیاں نظر آتی ہیں : اسلام عیسائیت کی چوکھٹ پر۔ عرب حکمرانوں نے کافروں کو سرزمین حرم میں داخل کر دیا، وغیرہ۔
سعودی حلقہ اس بارہ میں مختلف نقطہ نظر رکھتا ہے۔ ریاض کے عربی ہفت روزہ الدعوة (۳۱ جنوری) میں اس سلسلہ میں الشیخ ابن باز کا فتویٰ چھپا تھا۔ اس میں انھوں نے کہا تھا کہ مسلم حکمرانوں کے لئے اس میں کوئی شرعی نقصان نہیں کہ وہ غیر اسلامی حکومتوں سے مدد لیں جب کہ انہیں ایسی مدد کی ضرورت ہو (صفحہ ۷۔ ۸)، الدعوة (۲۱ فروری) میں دوبارہ الشیخ ابن باز کا مفصل مضمون چھپا ہے ۔ اس میں وہ لکھتے ہیں کہ غیر مسلموں سے مدد لینا جائز ہے جب کہ ظالم دشمن کو ہٹانے اور اس کو ہلاک کرنے اور بلا د اسلامی کو اس کے شر سے بچانے کے لئے ضروری ہو، خواہ وہ غیر مسلم یہودی ہو یا عیسائی یا بت پرست۔ (سوار کان المستعان بہ یہودیا او نصرانیا او وثنیا، صفحہ ۲۱)
اصولی طور پر یہ بات درست ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوطالب، مطعم بن عدی، عبداللہ بن ارقط وغیرہ سے مدد لی اور یہ سب غیر مسلم تھے۔ الشیخ ابن باز نے جو دلیل دی ہے یہی دلیل ہندوستان کے علماء نے ۱۹۴۷ء کے پہلے دی تھی جب کہ انھوں نے تحریک حریت میں غیر مسلموں کو اپنے ساتھ لیا تھا۔ مگر سوال یہ ہے کہ اس کی کیا وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر مسلموں سے تعاون لیا تو اس کا نتیجہ اسلام کے غلبہ کی صورت میں نکلا۔ جب کہ علماء ہند کے تعاون کا نتیجہ اس کے برعکس برآمد ہوا۔ اسی طرح یقینی ہے کہ خلیج کی جنگ کا سب سے بڑا فائدہ اسرائیل اور مغربی طاقتوں کو پہنچے گا اور سب سے بڑا نقصان عراق کو اور پھر مختلف انداز میں ساری مسلم دنیا کو۔
مدد کس کے لئے مفید ہوگی، اس کا انحصار اس پر ہے کہ مدد لینے سے پہلے کس نے اپنی بنیاد بنائی ہے ۔ دور اول کے مسلمان خود اپنی مضبوط بنیاد پر کھڑے ہوئے تھے ۔ اس لئے مدد کا فائدہ ان کے حصہ میں آیا۔ موجودہ مسلمانوں کی اپنی کوئی بنیاد نہیں، اس لئے مدد کا فائدہ بھی ان کو نہیں ملتا۔