Al-Risala · May 1991 · page 43

A Patriot a day keeps Scuds away

الرسالہ، مئی ۱۹۹۱، صفحہ ۴۳

امریکی کی زیر قیادت اتحادی فوجوں نے ۱ جنوری کو عراق پر بمباری کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ اب وہ عراق کی فوجی اور اقتصادی طاقت کو تقریباً توڑ چکے ہیں۔ اندازہ کے مطابق جلد ہی وہ زمینی حملہ شروع کر دیں گے جو یقینی طور پر چند دن سے زیادہ نہیں رہے گا۔ عراق کے لئے اس کے سوا کوئی صورت نہ ہوگی کہ وہ ذلت کے ساتھ ہتھیار ڈال دے (اتحادی فوجوں نے ۲۴ فروری ۱۹۹۱ء کو زبردست زمینی حملہ کر کے عراقی فوجوں کا قتل عام شروع کر دیا)

ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں مقیم عراقی سفیر نے کہا ہے کہ خلیج کی جنگ نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ سوویت روس اب سپر پاور نہیں رہا۔ وہ بڑی طاقت کی حیثیت سے ختم ہو چکا ہے۔ انھوں نے شکایت کی کہ روس اس جنگ میں امریکہ سے یا اقوام متحدہ سے ہمارے موافق کوئی تجویز منوانے میں کامیاب نہیں ہو رہا ہے۔ عراق روس کو اپنا سب سے بڑا دوست سمجھتا تھا، مگر روس عراق کے کچھ کام آتا ہوا نظر نہیں آتا۔ لیکن عراقی سفیر کو روس کے دیوالیہ پن کے بجائے خود عراقی لیڈروں کے دیوالیہ پن کا شکوہ کرنا چاہئے۔ حقیقت یہ ہے کہ روس اور امریکہ نے جون ۱۹۹۰ میں باقاعدہ طور پر سرد جنگ کے خاتمہ کا اعلان کر دیا تھا۔ عراقی لیڈروں نے اس اعلان کی حقیقت نہیں سمجھی۔ اس کے بعد انھوں نے اگست ۱۹۹۰ میں کویت پر حملہ کر کے اس پر قبضہ کر لیا۔ عراقی لیڈروں کی کارروائیاں بتاتی ہیں کہ وہ یقین کئے ہوئے تھے کہ اس جنگ میں روس ان کی طرف سے کود پڑے گا جس طرح سرد جنگ کے زمانہ میں روس اور امرکر ایک دوسرے کے خلاف کود پڑتے تھے۔ مگر روس کسی بھی درجہ میں عراق کی کوئی مدد نہ کر سکا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سرد جنگ کا خاتمہ دونوں قوموں کے لئے برابری کا معاملہ تھا۔ وہ اس بات کا مظاہرہ تھا کہ روس نے امریکہ کے مقابلہ میں سپر پاور کی حیثیت کھودی ہے۔ مگر عراقی اپنی خوش فہمی کی بنا پر اس کو سمجھ نہ سکے۔ عراقی لیڈر کہہ رہے ہیں کہ اصل جنگ تو زمینی جنگ ہے۔ زمینی جنگ شروع ہوگی تو ہم یہاں کے صحرا کو۔ امریکیوں کا قبرستان بنا دیں گے۔ مگر یہ محض بے خبری ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آج کے دور میں جنگ کا فیصلہ فضا میں ہوتا ہے اور فضا کی جنگ امریکہ جیت چکا ہے۔ اب زمینی جنگ صرف اختتامی کارروائی کے ہم معنی ہوگی نہ کہ نئی جنگ شروع کرنے کے ہم معنی۔ خوش فہمی کے گنبد میں رہنا آسان ہے۔ مشکل صرف یہ ہے کہ حقائق کا بے رحم ہاتھ جب اس کو توڑتا ہے تو گنبد تو درکنار آدمی کے قدموں کے نیچے کی اینٹ بھی نہیں ہوتی جہاں وہ اپنے آپ کو کھڑا کر سکے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1991 All issues

Printed page