Al-Risala · January 1991 · page 24

ہندوستان کدھر

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۱، صفحہ ۲۴

ہندوستان کدھر

۳۰ اکتوبر ۱۹۹۰ کو ایک ایسا دھماکہ خیز واقعہ ہوا جو غالباً ہندوستان کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ تھا۔ وہ شہر جس کا نام ہند و بزرگوں نے ایودھیا رکھا تھا ، یعنی وہ مقام جہاں تشدد نہ ہو۔ وہاں ہندو انتہا پسندوں کی ایک بھیڑ خلاف قانون پر جمع ہوئی۔ اس نے تشدد کا مظاہرہ کرتے ہوئے بابری مسجد کے اطراف کی پختہ چہار دیواری کو توڑ دیا۔ مسجد کے ایک گنبد کو نقصان پہنچایا پھر وہ اس کے اوپر چڑھ گئے اور اس کے تینوں گنبدوں پر اپنا بھگوا جھنڈا لہرا دیا۔ اس لاقانونیت کو روکنے کے لئے پولیس نے گولی چلائی جس میں ۲۵ سے زیادہ آدمی ہلاک ہوگئے۔

ایودھیا میں مجنونا نہ تشدد کا یہ مظاہرہ اس وقت کیا گیا جب کہ بابری مسجد ۔ رام جنم بھومی کا قضیہ ملکی عدالت میں زیر سماعت ہے۔ اس بنا پر حکومت نے اور ملک کے تمام منصف مزاج لوگوں نے بار بار یہ اپیل کی تھی کہ ہندو انتہا پسند عدالت کا احترام کرتے ہوئے اس کے فیصلہ کا انتظار کریں۔ عدالتی فیصلہ آنے سے پہلے بطور خود کوئی کارروائی نہ کریں۔ مگر تمام اپیلوں کو نظر انداز کر کے وہ اپنے گھروں سے نکلے تاکہ ایودھیا میں داخل ہو کر یودھ کریں اور پھر پورے ملک میں نفرت اور تشدد کی لہر پھیلا دیں۔

یہ واقعہ ہندوستان کی رواداری کے اس تصور کے سراسر خلاف ہے جو ہزاروں سال سے اس ملک میں چلی آرہی ہے اور جس کو اب تک ہندوستان کا پر فخر سرمایہ سمجھا جارہا تھا۔ یوپی اور مرکز کی حکومت نے چالیس کر ور روپے کے خرچ سے اس کا انتظام کیا تھا کہ وہ رواداری کی اس قدیم روایت کو بچا سکیں ۔ مگر مجنونا نہ سیلاب کے آگے قانون اور ایڈ منسٹریشن کے بند بھی ٹوٹ گئے ۔ کارسیوکوں نے اپنی حد تک تخریب کاری میں کمی نہیں دکھائی۔ اس واقعہ کی رپورٹ کافی تفصیل کے ساتھ اخباروں میں آچکی ہے۔

ٹائمس آف انڈیا ( ۳۱ اکتوبر ) نے بالکل درست طور پر لکھا ہے کہ ہند و فرقہ کی زیادہ بڑی تعداد کبھی اس سے اتفاق نہیں کرے گی۔ بلکہ ہندوؤں کی نہایت عظیم اکثریت کے لئے یہ واقعہ سخت پریشانی حتی کہ شرم کا باعث ہوگا :

‹ Previous page Next page › Contents of January 1991 All issues

Printed page