Al-Risala · May 1991 · page 45

Iraq agrees to unconditional pull-out

الرسالہ، مئی ۱۹۹۱، صفحہ ۴۵

ٹائم میگزین (۴ فروری) میں ایک رپورٹ چھپی تھی۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ امریکہ میں کچھ لوگ ہیں جو خلیج کی جنگ میں شریک ہونا نہیں چاہتے۔ افریقی امریکن (سیاہ فام)، جو سفید فام نسل سے نفرت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ یہ سفید فام لوگوں کی برتری قائم کرنے کی جنگ ہے۔ اس لئے ہم کو اس میں شریک نہیں کیا جانا چاہئے (صفحہ ۳۹)۔ یہی معاملہ امریکی مسلمانوں کا ہے۔ ان کے نزدیک امریکہ ایک اسلام دشمن ملک ہے۔ وہ موجودہ جنگ کو کافر اور مسلم کی جنگ سمجھتے ہیں۔ اس لئے وہ بھی جنگ میں شرکت کے خلاف ہیں (ٹائمز آف انڈیا ۱۳ فروری، صفحہ ۶)

ٹائم (۲۵ فروری) میں کوریا کے ایک شہری ڈیوڈ اسکاٹ (David E. Scott) کا خط اس کے جواب میں چھپا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ امریکی شہریت اختیار کرنے کے بعد کسی شخص کے لئے ایسا کہنا درست نہیں۔ انھوں نے لکھا ہے کہ میرا ایک لڑکا امریکی ہے۔ یہ واقعہ کہ وہ کوریا میں پیدا ہوا تھا، اس سے اس کی یہ ذمہ داری ختم نہیں ہوتی کہ وہ اس ملک کا دفاع کرے۔ اگر آپ فائدوں کو قبول کریں تو آپ کو ذمہ داریوں کو بھی قبول کرنا ہوگا :

My son is an American. The fact that he was born Korean does not in any way diminish his responsibility to defend this country. If you accept the benefits you must also accept the responsibilities (p. 8)

میں سمجھتا ہوں کہ کوریا کے مراسلہ نگار نے جو بات کہی ہے وہ عین درست ہے۔ جب آپ ایک ملک کے شہری بنیں اور اس کی مطلق وفاداری اور اس کے دفاع کا عہد کریں تو آپ کی ذمہ داری ہو جاتی ہے کہ خارجی وفاداریوں کو ترک کر کے صرف اس کے وفادار بنیں اور بوقت ضرورت اس کی طرف سے لڑیں ۔ کسی شخص کو یہ حق تو ہے کہ وہ ایسے ملک سے اپنی شہریت کو ختم کر دے اور وہاں سے ہجرت کر جائے مگر شہری رہتے ہوئے ایسا کرنا درست نہیں۔

یہ نہایت سطحیت اور گراوٹ کی بات ہے کہ آدمی فائدہ کو تو لے لے، مگر وہ ذمہ داریوں کو لینے کے لئے تیار نہ ہو۔ ذمہ داریوں کو اٹھانا ہی وہ قیمت ہے جس سے فائدوں کو لینے کا استحقاق پیدا ہوتا ہے: اگر کوئی شخص ذمہ داریوں کو اٹھانے سے انکار کرے تو فائدوں کو لینے کے لئے بھی اس کا استحقاق ختم ہو جائے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1991 All issues

Printed page