Al-Risala · June 1991 · page 15

تنقید

الرسالہ، جون ۱۹۹۱، صفحہ ۱۵

تنقید

لوگ اپنے خلاف تنقید سے اتنا زیادہ برہم کیوں ہوتے ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ تنقید کو توہین سمجھ لیتے ہیں ۔ اگر وہ تنقید کو اختلاف رائے کے معنی میں لیں تو کبھی تنقید کو سن کر برہم نہ ہوں۔ آدمی کے اندر سب سے زیادہ طاقت ور جذبہ یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو باعزت دیکھنا چاہتا ہے۔ وہ کسی حال میں اپنی بے عزتی کو پسند نہیں کرتا۔ جب وہ اپنے خلاف تنقید کو سنتا یا پڑھتا ہے تو مذکورہ نفسیات کی بنا پر تنقید اس کو اپنے عزّت اور وقار پر حملہ معلوم ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ تنقید کو سنتے ہی فوراً مشتعل ہو جاتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ اپنا سارا غصّہ ناقد کے اوپر انڈیل دے ۔

تنقید بلاشبہ انسان کے لیے سب سے زیادہ کڑوی چیز ہے ۔ اس میں عوام اور خواص کا کوئی فرق نہیں۔ صرف دو قسم کے انسان ہیں جو تنقید کے موقع پر غیر معتدل ہو جانے سے بچ سکتے ہیں ۔ ایک وہ انسان جو بہت زیادہ خدا سے ڈرنے والا ہو۔ یہ وہ انسان ہے جو خدا کی عظمتوں کو اتنی گہرائی کے ساتھ پاتا ہے کہ اپنا وجود اس کی نظر میں سراسر بے عظمت ہو جاتا ہے ۔ وہ خدا کو بڑا مان کر اپنے آپ کو چھوٹا بنا چکا ہوتا ہے ۔ اُس کا یہ مزاج اس میں رکاوٹ بن جاتا ہے کہ وہ تنقید کو سن کر پھر اٹھے ۔ تنقید اگر اس کو چھوٹا کرے تو وہ کیوں غضب ناک ہوگا ، جب کہ اس سے پہلے وہ خود اپنے آپ کو چھوٹا کر چکا ہے ۔

دوسرا انسان جو تنقید سے برہم نہیں ہوتا ، وہ انسان وہ ہے جس کے اندر حقیقی معنوں میں سائنسی مزاج پیدا ہو گیا ہو۔ سائنس نام ہے حقائق خارجی کے مطالعہ کا۔ سائنس داں کا ذہن یہ ہوتا ہے کہ حقیقت وہ ہے جو خارج میں پائی جائے۔ نہ کہ وہ جو اس کے اپنے ذہن کے اندر موجود ہو۔ یہ سائنٹفک مزاج آدمی سے اس کی خود پسندی چھین لیتا ہے، اور اس کو پوری طرح واقعیت پسند بنا دیتا ہے۔ اس مخصوص مزاج کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جب سائنس داں کے سامنے کوئی تنقیدی بات کہی جاتی ہے تو وہ اپنی ذات کو الگ کرکے اسے دیکھتا ہے۔ اس کا دھیان اس کی اصلیت کی طرف چلا جاتا ہے نہ کہ اس طرف کہ وہ اُس کی ذات کو مجروح کر رہی ہے۔ جو شخص تنقید کو سن کر بھڑک اٹھے وہ صرف یہ ثابت کر رہا ہے کہ اس کے اندر نہ سچا تقویٰ ہے اور نہ سچا علمی مزاج ۔ اگر اس پر تنقید کی گئی تو واقعۃً وہ اسی قابل تھا کہ اس پر تنقید کی جائے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1991 All issues

Printed page