Al-Risala · June 1991 · page 16

مومن کا طریقہ

الرسالہ، جون ۱۹۹۱، صفحہ ۱۶

مومن کا طریقہ

صحیح البخاری کی ”کتاب التفسیر“ میں مستر آن سے متعلق بہت سی روایتیں جمع کی گئی ہیں۔ سورہ الحجرات کی تفسیر کے تحت ایک واقعہ دو واسطوں سے نقل کیا گیا ہے۔

ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ قریب تھا کہ دو اصحاب خیر ہلاک ہو جائیں۔ یعنی ابو بکر اور عمر ۔ ان دونوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنی آوازیں بلند کیں ۔ یہ اس وقت ہوا جب کہ بنو تمیم کا وفد مدینہ آیا ۔ ابو بکر نے کہا کہ القعقاع بن معبد کو ان کا امیر بنائیے۔ عمر نے کہا کہ الاقرع بن حابس کو ان کا امیر بنائیے ۔ پھر ابو بکر نے عمر سے کہا کہ تم نے صرف میری مخالفت کے لیے ایسا کہا ہے ۔ عمر نے جواب دیا کہ میرا مقصد تمہاری مخالفت نہیں ۔ پھر دونوں بحث کرنے لگے۔ یہاں تک کہ ان کی آوازیں اونچی ہوگئیں۔ اس پر یہ آیت اتری کہ اے ایمان والو ، تم اللہ اور اس کے رسول کے آگے نہ بڑھو ۔ اور اللہ سے ڈرو ۔ بے شک اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔ اے ایمان والو ، تم اپنی آوازیں پیغمبر کی آواز سے اوپر مت کرو ...... ایسا نہ ہو کہ تمہارے اعمال حبط ہو جائیں اور تم کو خبر بھی نہ ہو (الحجرات (۱ - ۲) ابن الزبیر کہتے ہیں کہ اس کے بعد عمر کا یہ حال ہوا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس طرح بولتے کہ پوری طرح سنائی نہ دیتا اور رسول اللہ دوبارہ پوچھتے کہ تم نے کیا کہا ۔ فَمَا كان عمر يسمع رسول الله صلى الله عليه وسلم بعد هذه الآية حتى يستفهمه)

یہی مومن کا طریقہ ہے۔ مومن بے خبری میں خدا اور رسول کی آواز پر اپنی آواز بلند کر سکتا ہے۔ مگر جیسے ہی اس کو بتایا جائے وہ فوراً اپنی آواز پست کر لیتا ہے۔ وہ اپنی آواز کو خدا اور رسول کی آواز کے مقابلہ میں نیچا کر لیتا ہے ۔

یہ صرف زمانہ رسول کی بات نہیں۔ آج بھی اہلِ ایمان سے یہی مطلوب ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ پہلے براہ راست رسولِ خدا کے ذریعہ اس کو متنبہ کیا جاتا تھا۔ آج قرآن و حدیث کے حوالے سے کوئی دوسرا متنبہ کرنے والا اس کو متنبہ کرے گا۔ آج بھی جب کسی کے سامنے خدا اور رسول کا حکم بیان کیا جائے تو اس کو اپنی آواز اسی طرح پست کر لینا چاہیے جس طرح دور اول کے اہلِ ایمان نے اس کے مقابلہ میں اپنی آواز کو پست کر لیا تھا ۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1991 All issues

Printed page