تلخ حقیقت
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۱، صفحہ ۲۶
سامنے آئے ہیں، وہ بتاتے ہیں کہ یہ لیڈر اپنی پالیسی میں کامیاب ہیں۔ ان کی تباہ کن پالیسی نے اگرچہ ملک اور قوم کو بربادی کے آخری کنارے پر پہنچا دیا ہے، تاہم یہ لیڈر خود اس قابل ضرور ہو گئے ہیں کہ وہ، کم از کم وقتی طور پر، اپنی سیاسی فتح کی خوشی کا جشن منا سکیں۔ پچھلے چند سالوں میں ہندوستان میں مذہب کے نام پر سیاست کا جو تخریبی کھیل کھیلا گیا ہے، اس میں لیڈر لوگ جیت گئے مگر ملک ہار گیا۔ لیڈروں نے اپنا شاندار قلعہ ضرور کھود کر لیا ہے، مگر ان کا یہ سیاسی قلعہ صرف ملک کے کھنڈر پر بن کر کھڑا ہوا ہے۔
ہندوستان کا ضمیر اس المناک حادثہ پر چیخ اٹھا ہے۔ بجاطور پر لوگ محسوس کر رہے ہیں کہ یہ نقشد دانہ حملہ " بابری مسجد " پر نہ تھا بلکہ خود ہند و دھر م کی اپنی مقدس روایات پر تھا۔ چنانچہ ملک کے بے شمار لوگوں نے تقریر اور تحریر کے ذریعہ اس کی مذمت کی اور اس کے بارے میں اپنے درد و کرب کا اظہار کیا۔ ہندوؤں کی کم از کم ۵۷ فی صد تعداد نے اس کو برا بتایا۔ نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا (۳۱ اکتوبر ۱۹۹۰ ) نے اپنے صفحہ اول پر ایک ایڈیٹوریل شائع کیا ہے۔ اس غیر معمولی ایڈیٹوریل بعنوان مضطرب ہندوستان (Anguished India) میں اس نے لکھا ہے کہ:
The BJP and the VHP clearly failed to realise that whipping up atavistic passions for political gain would give them at best a pyrrhic victory (p.1)
بھارتیہ جنتا پارٹی اور روشو ہندو پرشت واضح طور پر یہ سمجھنے میں ناکام رہے ہیں کہ سیاسی مقصد کے لئے پشتینی جذبات کو بھڑکاکر وہ زیادہ سے زیادہ جو چیز پائیں گے وہ ان کے لئے صرف ایک تباہ و برباد فتح ہوگی۔
تلخ حقیقت
ہندوؤں کے انتہا پسند لیڈر کیا کہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ مغل دور میں ہمارے اوپر ظلم کیا گیا ہے ۔ اب ہم اس کا انتقام لیں گے۔ اس سے قطع نظر ظلم کا دعویٰ صحیح ہے یا غلط ۔ سوال یہ ہے کہ اگر مغل حکمرانوں نے ظلم کیا تو ان کو اپنے ظلم " سے کیا ملا۔ اس کا نتیجہ جو ان کے حصہ میں آیا وہ صرف یہ تھا کہ ان کی
‹ Previous page Next page › Contents of January 1991 All issues