تلخ حقیقت
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۱، صفحہ ۲۷
حکومت کمزور ہو گئی۔ اور آخر کار ۱۸۵ میں وہ ہمیشہ کے لئے ختم ہوگئی۔
اسی طرح ہندوؤں کے انتہا پسند لیڈ کہتے ہیں کہ انگریز یوں نے ہمارے اور ظلم کیا۔ اس سے قطع نظر کہ ظلم کا دعویٰ صحیح ہے یا غلط ۔ دو بارہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ انگریز یوں کو اپنے ظلم سے کیا ملا۔ ان کے حصہ میں صرف یہ آیا کہ ملک کے اندر ان کے اقتدار کی جڑیں اکھڑ گئیں۔ اور ۱۹۴۷ میں آخری طور پر ان کا اقتدار ختم ہو گیا۔
ہندوؤں کے انتہا پسند لیڈر کہتے ہیں کہ ملک کی آزادی کے بعد کانگریس پارٹی کی جو حکومت بنی، اس کی پالیسی اقلیت کو خوش کرنے (appeasement) کی تھی۔ چنانچہ مسلسل ہندوؤں کے اوپر ظلم کرتی رہی۔ اس سے قطع نظر کہ ظلم کا یہ دعویٰ صحیح ہے یا غلط ۔ سوال یہ ہے کہ کانگریس کو اس ظلم“ سے کیا ملا۔ اس کو صرف یہ ملا کہ وہ کمزور ہوتی چلی گئی یہاں تک کہ ۱۹۸۸ کے الیکشن نے اس کے حق میں اقتدار سے بے دخلی کا فیصلہ کر دیا۔
ہندوؤں کے انتہا پسند لیڈروں نے دوبارہ ظلم کا طریقہ اختیار کیا ہے، وہ بھی اپنے پیش روؤں کی طرح ظلم کے راستہ پر چل رہے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ انتہا پسند لیڈر اپنے لئے کیا پسند کر رہے ہیں۔ کیا وہ دوبارہ اسی تباہی کی سیٹ پر بیٹھنا چاہتے ہیں جس کو ان کے کہنے کے مطابق مغلوں اور انگریز یوں اور کانگریسیوں نے خالی کیا ہے۔ اگر انھوں نے اپنے لئے اسی راستہ کا انتخاب کہا ہے تو کیا انھیں معلوم نہیں کہ قدرت کا قانون سب کے لئے یکساں ہے۔ وہ ایک گروہ اور دوسرے گروہ کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتا ۔ جس ظلم نے پہلے حکمرانوں کو پیچھے دھکیل دیا، وہی ظلم نئے حکمرانوں کے ساتھ کیا اس کے سوا کوئی اور سلوک کرے گا جو وہ پہلے حکمرانوں کے ساتھ کرتا رہا ہے۔ پھر یہ انتہا پسند لوگ اپنے لئے کس انجام کا انتظار کر رہے ہیں۔
ہندوؤں کے انتہا پسند لیڈروں کو ممکن ہے کہ اپنی منفی سیاست کا یہ سیاسی فائدہ ملے کہ وہ ووٹروں کی ایک تعداد کی نظر میں ان کے قومی ہیرو بن جائیں ۔ اس طرح ممکن ہے کہ وہ اگلا ملکی الیکشن جیت لیں اور حکومت کی کرسیوں پر اپنے آپ کو پہنچانے میں کامیاب ہو جائیں مگر جتنا امکان اس بات کا ہے ، اس سے زیادہ امکان اس کا ہے کہ ان کی موجودہ مفسدانہ کارروائیوں کی بنا پر قدرت کا قانون ان کے خلاف حرکت میں آجائے۔ اس کے بعد وہ ظالموں کے خانہ میں لکھ دئے جائیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1991 All issues