Al-Risala · June 1991 · page 23

Garbo: Her Story by Antoni Gronowicz

الرسالہ، جون ۱۹۹۱، صفحہ ۲۳

I have lost a belief in people, in a God who put me in this situation without replying clearly to my questions. I am floating on the waters of life without direction, without a goal, without the knowledge of why and how long. (p. 15)

میں نے عوام میں اپنا یقین کھو دیا ہے۔ میں نے خدا میں بھی یقین کھو دیا ہے جس نے مجھے اس حال میں رکھا، بغیر اس کے کہ وہ میرے سوالات کا واضح جواب دے۔ میں زندگی کے پانی میں کسی سمت کے بغیر بہہ رہی ہوں۔ میری کوئی منزل نہیں۔ مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ کیوں اور کب تک میرا یہ سفر جاری رہے گا۔

یہ ایک ایسی عورت کی کہانی ہے جس نے خدا کو چھوڑ کر غیر خدا کو اپنا مرکزِ توجہ بنایا، پھر اس کو اس میں تسکین نہ مل سکی۔ یہاں تک پچاس سال بے چینی کی حالت میں رہ کر اس نے اپنی جان دیدی۔ گریٹا گاربو کا واقعہ ایک انتہائی انداز کا واقعہ ہے۔ مگر کم و بیش یہی واقعہ ہر ایک کے ساتھ پیش آرہا ہے۔ ہر آدمی خدا کو چھوڑے ہوئے ہے۔ ہر آدمی کسی نہ کسی غیر خدا کو حاصل کرنے کے لیے دوڑ رہا ہے۔ مگر جب وہ اس کو پالیتا ہے تو اس کو معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس کی طلب کا جواب نہ تھا۔ اس نے غلط فہمی میں ایک ایسی چیز کو اپنا مقصود و مطلوب بنالیا جو حقیقۃ اس کا مقصود و مطلوب نہ تھا۔

ہر آدمی اس حوصلے کے ساتھ اپنی زندگی کا سفر شروع کرتا ہے کہ وہ اپنی منزل کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ مگر جب منزل آتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ منزل نہ تھی بلکہ ایک کھڈ تھا جس میں وہ اپنی تمام آرزوؤں اور تمناؤں کو لیے ہوئے جاگرا۔

راهِ عمل ماضی، حال اور مستقبل کا جائزہ قرآن وسنت اور تاریخ کی روشنی میں

‹ Previous page Next page › Contents of June 1991 All issues

Printed page