United Nations High Commissioner for Refugees
الرسالہ، جون ۱۹۹۱، صفحہ ۴۶
لے کسی بھی قسم کا کوئی اہتمام نہ کریں۔ جو کچھ آپ روزمرہ کھاتے تھے، بس وہی مجھ کو کھلائیں۔ ان کی اہلیہ خوش قسمتی سے نہایت سادہ مزاج کی ہیں، اس لئے اس شرط پر عمل کرنے میں کوئی زحمت پیش نہیں آئی۔ صغیر اسلم صاحب کے ساتھ لمبی مدت تک رہ کر مجھے اندازہ ہوا کہ ان کے مزاج میں اور میرے مزاج میں بہت زیادہ مطابقت ہے۔ یہاں کے لوگوں میں وہ اپنے مزاج کے اعتبار سے ایک منفرد انسان نظر آتے ہیں۔ انھوں نے ایک روز کہا :
After the Almighty God made me, He threw the mould away. میں نے کہا کہ اس میں اتنی تبدیلی کر لیجیے کہ اس مولڈ سے اللہ تعالیٰ نے دو انسان بنائے۔ ایک آپ کو اور دوسرے مجھ کو۔ آپ اس مولڈ کا (finished product) ہیں اور میں اس مولڈ کا ہوں۔ (unfinished product)
یہاں پہلے دن میں ڈاکٹر مزمل حسین صدیقی کے ساتھ ٹھہرا تھا۔ اس کے بعد آخر وقت تک میرا قیام جناب صغیر اسلم صاحب کے یہاں رہا۔ یہ دونوں صاحبان بہت زیادہ میرے ہم مذاق ہیں۔ ڈاکٹر مزمل حسین صدیقی اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ نہایت سنجیدہ اور متواضع انسان ہیں۔ ان سے گفتگو کر کے بہت خوشی ہوتی ہے۔ وہ یہاں اسلامک سوسائٹی کے ڈائرکٹر ہیں۔ اسی کے ساتھ اپنے گھر پر بھی انھوں نے اسلامی ماحول بنارکھا ہے۔ وہ اس بات کی ایک مثال ہیں کہ کس طرح آدمی ہر ماحول کے اندر اپنا ماحول بناسکتا ہے۔ ایک صاحب جو " اسلامی حکومت" قائم کرنے کے علمبردار ہیں، انھوں نے ڈاکٹر صاحب پر نقد کرتے ہوئے کہا کہ آپ اتنے دنوں سے امریکہ میں ہیں۔ آپ نے یہاں کیا کیا۔ ڈاکٹر صاحب نے سنجیدگی کے ساتھ جواب دیا : آپ میرے کام کو میرے معیار سے جانچئے نہ کہ اپنے بنائے ہوئے معیار سے۔ میں نے تو الحمد للہ بہت کچھ کیا ہے۔ یہ آپ کو بتانا ہے کہ آپ اتنے دنوں سے اسلامی حکومت کی تحریک چلا رہے ہیں۔ آپ نے کیا کیا۔
صغیر اسلم صاحب بزنس کرتے ہیں۔ وہ بہت خوبیوں کے آدمی ہیں۔ ان کا ایک اصول مجھے بہت پسند آیا۔ اس کو میں اپنے لفظوں میں " چلو یہ بھی ٹھیک ہے، پرنسپل " کہتا ہوں۔ جب بھی کسی سے کوئی اختلافی بات پیدا ہو تو فورا وہ یہ کہہ کر بات کو وہیں ختم کر دیتے ہیں کہ " چلو یہ بھی ٹھیک ہے! " یہ اصول وہی ہے جس کو اعراض کہا جاتا ہے ۔ (باقی آئندہ)
‹ Previous page Next page › Contents of June 1991 All issues