Al-Risala · June 1991 · page 48

وغیرہ

الرسالہ، جون ۱۹۹۱، صفحہ ۴۸

وغیرہ

پندرہ سال پہلے الرسالہ کی حقیقت پسندانہ پکار بالکل اجنبی معلوم ہوتی تھی۔ مگر آج تمام لوگ اسی کی بولی بولنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ مثال کے طور پر مولانا علی میاں پہلے جذباتی اقدام کے وکیل تھے۔ ان کے نزدیک مسلمانوں کے لئے رہنمائی اقبال کے اس شعر میں تھی کہ :

بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی اب مولانا علی میاں کا بیان خلیج کے المیہ کے ذیل میں تعمیرحیات (۱۰ مارچ ۱۹۹۱) میں چھپا ہے۔ وہ موجودہ مسلمانوں کی ناکامی کا سبب بتاتے ہوئے کہتے ہیں : صدام حسین کے اقدام کا سب سے بڑا المیہ یہ ہوا کہ اسلام کی شہرت اور دعوت کو نقصان پہنچا۔ اسلام کا تعارف کرانے والوں کو آزمائش میں مبتلا ہونا پڑا۔ حالیہ واقعات سے یہ بات کھل کر سامنے آگئی کہ مسلمانوں میں شعور کی کمی ہے اور جذباتیت بہت بڑھی ہوئی ہے۔ یہاں تحریکوں کو چلانے میں جذبات کو برانگیختہ کرنے سے زیادہ کام لیا جاتا ہے۔ پورے برصغیر میں یہ کمزوری ہے کہ اگر کوئی شخص کسی مغربی طاقت کے خلاف زور دار لفظ بول دے تو وہ ہیرو بن جاتا ہے۔ ہر لفظ جس میں خطر پسندی ہو اسے سن کر مسلمان دیوانے ہو جاتے ہیں۔ ضرورت ہے کہ نفع و نقصان کا حقیقت پسندانہ جائزہ لیا جائے اور احتساب کیا جائے (صفحہ ۱۳) مولانا علی میاں کے یہ الفاظ بلا اعلان اپنی غلطی کا اعتراف اور الرسالہ کے پیغام کی بالواسطہ تصدیق ہیں۔

۷۔ دعوتی جذبہ کے تحت الحمد للہ بہت سے لوگ دوسروں کے نام اپنی طرف سے الرسالہ جاری کراتے رہتے ہیں۔ مثلاً ناگپور کے جناب ایم شیخ نے اپنی طرف سے دس آدمیوں کے نام الرسالہ اردو، انگریزی ، ہندی ایک سال کے لئے جاری کرایا ہے۔ یہ ایک بہت بڑا کار خیر ہے۔ اور دوسروں کے لئے بہترین مثال بھی ہے۔

۸۔ الرسالہ کے قارئین خاموشی سے ہر جگہ اسلامی پیغام کی اشاعت میں مشغول ہیں۔ مثلاً جناب بدر الدین احمد مراد آبادی نے بتایا کہ ایک ہندو فرم کے ساتھ ان کے کاروباری

‹ Previous page Next page › Contents of June 1991 All issues

Printed page