Al-Risala · July 1991 · page 27

الرسالہ سمپوزیم

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۱، صفحہ ۲۷

ایک لیڈر کو قوم کی ترقی کی خاطر ذاتی مقبولیت کو قربان کرنا ہوتا ہے۔ کبھی کچھ افراد کو سماج کی مجموعی بہتری کے لئے ذاتی تقاضوں کو دبانا پڑتا ہے۔ کبھی کسی قوم کی حال کی نسل کو قربان ہونا پڑتا ہے تاکہ اس کی مستقبل کی نسل کامیابی کی منزل تک پہنچ سکے۔ کبھی ایک گروہ کو اپنی خوشیوں سے محروم ہونا پڑتا ہے تاکہ وسیع تر انسانیت کو خوشیوں کی نعمت مل سکے۔

عید اضحی کا پیغام یہ ہے کہ _________ قربانی کے لئے تیار رہو۔ جب کبھی کسی بڑے مقصد کے لئے اپنے آپ کو قربان کرنے کا موقع آئے تو فوراً اپنے آپ کو اس کے لئے قربان کر دو جس طرح آج تم نے ایک جانور کو قربان کیا ہے۔ جانور کی قربانی حقیقتاً ذاتی قربانی کا ایک مقدس عہد ہے۔ اور اللہ کے یہاں قربانی دینے والا وہ ہے جو اپنے اس عہد کو اپنی زندگی میں پورا کر دکھائے۔ عید اضحی دراصل حج کی عظیم عبادت کا ایک جزو ہے۔ حج کی صورت میں ہر سال جو مراسم عرب میں ادا کئے جاتے ہیں وہ سب کے سب حضرت ابراہیم کی تاریخ کا علامتی اعادہ ہیں۔ حضرت ابراہیم کو ایک خدا پرستانہ انقلاب لانا تھا۔ اس کے لئے انھوں نے اپنا سب کچھ اللہ کی راہ میں دے دیا۔ اس عمل کے دوران ان پر یا ان کے اہلِ خانہ پر جو احوال گزرے، انھیں کو حاجی دہراتا ہے۔ حج دراصل حضرت ابراہیم کے حقیقی واقعات کا علامتی اعادہ ہے۔

اسی حج کے عمل کا ایک جزو نماز اور قربانی ہے جس کو انھیں دنوں میں ساری دنیا کے مسلمان مناتے ہیں۔ معروف حج بڑا حج ہے اور عید اضحی گو یا چھوٹا حج۔

الرسالہ سمپوزیم

پٹنہ کے الرسالہ ریڈرس فورم کی طرف سے پٹنہ میں ایک سمپوزیم یکم ۲۸ جولائی ۱۹۹۱ کو کیا جا رہا ہے۔ اس میں زندگی کی تعمیر میں الرسالہ کے زول پر مذاکرہ ہوگا ۔ ضرورت ہے کہ دوسرے مقامات کے قارئینِ الرسالہ بھی وقتاً فوقتاً اپنے یہاں اس قسم کے مذاکرات کا اہتمام کریں۔ پٹنہ کے مذکورہ سمپوزیم کے لیے مقامی لوگ حسب ذیل پتہ پر رابطہ قائم فرمائیں :

ایم ٹی خان ، سی۔ ۳۰ عدالت گنج ، پٹنہا۔ ٹیلی فون : ۲۲۳۹۴۱

‹ Previous page Next page › Contents of July 1991 All issues

Printed page