ایک غلطی بھی
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۱، صفحہ ۲۸
ایک غلطی بھی
ایک بار میں ایک دیہات میں گیا ہو اتھا۔ وہاں میں نے دیکھا کہ ایک شخص نے نیم کا درخت کاٹا اور اس کے بعد اس کے تنے کا چھلاتارا نے لگا۔
" آپ اس کا چھلکا کیوں اتار رہے ہیں " میں نے دیہات کے اس آدمی سے پوچھا۔ اس نے مسکرا کر جواب دیا : " اگر چھلکا نہ اتارا جائے تو اس کے اندر کیڑے لگ جائیں گے اور لکڑی کو خراب کر دیں گے "۔
یہ ۱۹۶۵ کی بات ہے۔ اگست ۱۹۷۵ میں دوبارہ مجھے ایک اور دیہات میں جانے کا اتفاق ہوا۔ وہاں میں نے دیکھا کہ نیم کا ایک کٹا ہوا تنہ پڑا ہے۔ ایک شخص نے اپنے گھر کے پاس نیم کا ایک درخت کاٹ دیا تھا مگر اس کا چھلکا نہیں اتارا تھا۔ یہ دیکھ کر مجھے دس سال پہلے والی بات یاد آئی۔ میں نے سوچا کہ تجربہ کر کے دیکھوں کہ اس کی بات صحیح تھی یا نہیں۔ میں نے اس کے گھر کے ایک آدمی سے کہا کہ کوئی اوزار لاؤ اور اس کا چھلکا اتارو۔ جب اس نے چھلکا کا اتار تو میں نے دیکھا کہ چھلکے کے نیچے ایک انچ کے موٹے موٹے کیڑے ہیں۔ یہ کیڑے نہایت نرم تھے مگر انھوں نے تنہ کی سطح کو جگہ جگہ اس طرح کاٹ ڈالا تھا جیسے اس کے اوپر نالیاں بنائی گئی ہوں ۔
یہ قدرت کا نظام ہے۔ قدرت اس طرح سبق دیتی ہے کہ اس دنیا میں تم کو نہایت محتاط رہ کر زندگی گزارنا ہے۔ کیوں کہ دنیا کا نظام اس طرح بنایا گیا ہے کہ یہاں ایک غلطی تمہاری ساری خوبیوں پر پانی پھیر سکتی ہے۔ ایک غفلت تمہارے سارے امکانات کو برباد کرنے کے لئے کافی ہے۔ قدرت یہ کر سکتی تھی کہ چھلکا اتارے بغیر نیم کے تنہ کو محفوظ رکھتی۔ مگر اس نے یہ قانون بنا دیا کہ اس کا مالک اس کا چھلکا اتارے۔ اس کے بعد ہی اس کا تنہ اس دنیا میں محفوظ رہ سکے گا۔ اس قانون قدرت کا انطباق اب انسانی زندگی میں دیکھئے۔ کیوں کہ انسان کی دنیا میں بھی وہی قانون رائج ہے جو فطرت کی دنیا میں پایا جاتا ہے۔
۱۹۴۴ میں جون پور (یوپی) کے دو آدمیوں نے مل کر کاروبار شروع کیا۔ ابتدائی سرمایہ
‹ Previous page Next page › Contents of July 1991 All issues