ایک غلطی بھی
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۱، صفحہ ۲۹
ان لوگوں کے پاس چند سو سے زیادہ نہیں تھا۔ مگر ان کے مشتر کہ کاروبار میں خدا نے برکت دی اور چھ سال میں ان کے کاروبار کی حیثیت ۳۰ ہزار تک پہنچ گئی ۔ اب دونوں میں اختلاف شروع ہو گیا اور نتیجہ علیحدگی تک پہنچا۔ ایک ثالث کے مشورہ سے طے ہوا کہ کاروبار تقسیم نہ کیا جائے، بلکہ اس کی مالیت کا اندازہ کر کے اس طرح بٹوارہ ہو کہ ایک شخص نصف کے بقدر رقم لے لے اور دوسرے کو اثاثہ سونپ دیا جائے ۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور ایک شخص کو مال و اسباب اور دوسرے کو نقد پندرہ ہزار روپے دے دیے گئے۔
۱۹۲۹ میں پندرہ ہزار روپے آج کی قیمت کے لحاظ سے کئی لاکھ روپے کے برابر تھے۔ جس شخص نے نقد رقم لی تھی، اس نے جون پور کے ایک بازار میں کپڑے کی دکان کھول لی ۔ انھیں شروع ہی سے بڑا اچھا میدان ملا اور ایک سال میں ان کا سرمایہ دگنا ہو گیا ۔ اپنے کاروبار کے دوسرے سال میں وہ اس طرح داخل ہوئے کہ ان کے سامنے ترقی اور کامیابی کا ایک نہایت وسیع دروازہ کھلا ہوا تھا۔
مگر اب ایک کمزوری نہایت آہستگی سے ان کے اندر داخل ہو گئی ۔ وہ خرچ کے بارے میں لا پروا ہو گئے ۔ اپنی ذات پر ، بیوی بچوں اور دوستوں پر ان کا خرچ بے حساب بڑھ گیا ۔ وہ بھول گئے کہ دن بھر کی بکری سے ایک ہزار روپے جو ان کے گلے میں آئے ہیں ، ان میں سے صرف ۱۰فیصد ان کا ہے ۔ باقی ۹۰ فی صد مہاجن کا ہے۔ وہ اپنے گلے کی رقم اس طرح خرچ کرنے لگے گویا یہ سارا روپیہ ان کی آمدنی ہے، ٹھیک ویسے ہی جیسے وکیل کی جیب میں فیس کی جو رقم آتی ہے وہ سب اس کی آمدنی ہوتی ہے ۔
دکان داری کے ساتھ اس قسم کی شاہ خرچی نہیں چل سکتی ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ چند سال میں وہ دیوالیہ ہوگئے ۔ ان کے پاس پندرہ ہزار میں سے ایک روپیہ بھی باقی نہ رہا۔ اس واقعہ کے بعد وہ تقریباً پندرہ سال تک زندہ رہے۔ مگر دوبارہ کوئی کام نہ کر سکے۔ کسی نے مشورہ دیا کہ تم ایک " چلہ " دے دو تو تمہارا کام بن جائے گا۔ انھوں نے یہ بھی کیا۔ مگر قانون قدرت کی خلاف ورزی کی تلافی چلہ کے ذریعہ نہیں ہو سکتی ۔ چنانچہ ان کی حالت بگڑتی رہی ۔ یہاں تک کہ پریشانی کے عالم میں وہ ۱۹۷۱ میں ایک جیپ سے ٹکرا گئے اور سڑک ہی پر ان کا
‹ Previous page Next page › Contents of July 1991 All issues