حقیقی عمل
الرسالہ، اگست ۱۹۹۱، صفحہ ۱۳
حقیقی عمل
میکسم گورکی (Maksim Gorky) ایک روسی ادیب ہے۔ وہ 1868 میں پیدا ہوا، اور 1936 میں اس کی وفات ہوئی۔ اس نے ایک جگہ بتایا ہے کہ محنت ہی کلچر کی بنیاد ہے۔ اس سلسلہ میں وہ لکھتا ہے کہ۔ ۔۔۔ اگر ہر آدمی اپنی تھوڑی سی زمین میں پوری محنت کرے تو ہماری دنیا کتنی حسین ہو جائے۔ یہ بات صد فی صد درست ہے۔ ہر آدمی کے قریب اپنے عمل کا ایک ممکن دائرہ ہوتا ہے۔ اس کے اختیار میں ہوتا ہے کہ یہاں وہ اپنی پوری محنت صرف کرے اور اس کو آخری نتیجہ تک پہنچائے۔ اگر ہر آدمی اپنے اس ممکن دائرہ میں محنت کرنے لگے تو بیک وقت ساری دنیا میں بہت سے نتیجہ خیز عمل شروع ہو جائیں گے۔ اور جب یہ تمام عمل اپنے انجام کو پہنچیں گے تو تعمیر و ترقی کی ایک پوری دنیا ہر طرف کھڑی ہوئی نظر آئے گی۔
مگر انسان کا حال یہ ہے کہ وہ اپنی ’’تھوڑی زمین‘‘ پر عمل کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ وہ دوسروں کی ’’بڑی زمین‘‘ کو اپنا نشانہ بناتا ہے۔ وہ خود اپنی عملی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے بجائے یہ کرتا ہے کہ دوسروں کے خلاف جھنڈا لے کر کھڑا ہوتا ہے کہ وہ اپنی عملی ذمہ داریوں کو ادا کریں۔ اس قسم کا عمل انسانیت کو بربادیوں کے سوا کہیں اور پہنچانے والا نہیں۔ جس سماج میں لوگ ایسا کریں وہاں لوگوں کے الفاظ سے تو ساری فضا گونج رہی ہوگی۔ مگر عمل کا سارا میدان صحرا کی طرح بے فصل پڑا رہے گا۔
ایک ایک کے مجموعہ ہی کا نام بڑی گنتی ہے۔ اجزاء کے جمع ہونے سے ہی ایک کل بنتا ہے۔ اس لیے اشخاص کا انفرادی طور پر عمل کرنا، نتیجہ کے اعتبار سے، سب کا عمل کرنا ہے۔ انفرادی سرگرمی، اپنے انجام کے لحاظ سے اجتماعی سرگرمی ہے۔
جز پر عمل کی بات کرناپر وگرام ہے، کل پر عمل کی بات کرنا صرف نعرہ ہے۔ کیوں کہ جز اپنے قبضہ میں ہوتا ہے۔ جز پر محنت کرنا ہر شخص کے لیے ہمیشہ ممکن ہوتا ہے۔ اس کے برعکس کل وہ چیز ہے جو کسی آدمی کے قبضہ میں نہیں۔ کل پر محنت کرنا عملی طور پر ممکن نہیں۔ پروگرام وہ ہے جو ممکن ہو۔ جو ممکن نہیں وہ پروگرام بھی نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1991 All issues