Al-Risala · August 1991 · page 14

حقیقی عمل

الرسالہ، اگست ۱۹۹۱، صفحہ ۱۴

کہو، میں تم لوگوں کو ایک بات کی نصیحت کرتا ہوں۔ یہ تم خدا کے واسطے کھڑے ہو جاؤ، دو دو اور ایک ایک۔ پھر سوچو کہ تمہارے ساتھی (پیغمبر) کو جنون نہیں ہے۔ وہ تو بس ایک سخت عذاب سے پہلے تم کو ڈرانے والا ہے۔ کہو کہ میں نے تم سے کچھ معاوضہ مانگا ہو تو وہ تمہارا ہی ہے۔ میرا معاوضہ تو بس اللہ کے اوپر ہے۔ اور وہ ہر چیز پر گواہ ہے (سبا ۴۶-۴۷)

مطلب یہ کہ تم جو اس دعوت کا انکار کر رہے ہو اور اس کو غلط ثابت کرنا چاہتے ہو، اس کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے۔ اس کے پیچھے جو چیز ہے وہ صرف ضد اور تعصب ہے۔ اگر تم ضد اور تعصب سے خالی ہو کر سوچو، خواہ اکیلے اکیلے انفرادی طور پر سوچو، یا کئی آدمی مل کر اجتماعی طور پر غور کرو تو تمہاری غلطی خود تمہارے اوپر واضح ہو جائے گی۔ اگر تم نے واقعی طور پر کھلے ذہن سے سمجھنے کی کوشش کی تو تم پاؤ گے کہ جس شخص کو تم دیوانہ بتا رہے ہو، وہ دیوانہ نہیں، وہ خدا کا سچا داعی ہے۔ تم دیکھو گے کہ داعی حق کی سابقہ زندگی اس کی سنجیدگی کی گواہی دے رہی ہے۔ اس کا درد مندانہ انداز تم کو بتائے گا کہ وہ جو کچھ کہہ رہا ہے وہی اس کے دل کی آواز ہے۔ اس کے کلام کا حکیمانہ اسلوب تم کو اس کی صحت کی گواہی دیتا ہوا نظر آئے گا۔ اس کا تم سے کسی معاوضہ کا طالب نہ ہونا ظاہر کرے گا کہ اس نے اس کام کو صرف اللہ کی خاطر شروع کیا ہے نہ کہ کسی ذاتی مفاد کی خاطر۔ اگر تم غیر جانب دارانہ انداز میں غور کرو تو تم جان لو گے کہ اللہ کے داعی کی بے قراری جنون کی بے قراری نہیں ہے، بلکہ اس کا سبب یہ ہے کہ وہ جس خطرہ سے ڈرانے کے لیے اٹھا ہے، اس کو وہ خود اپنی آنکھوں سے آتا ہوا دیکھ رہا ہے۔

جو لوگ سنجیدہ ہوں، ان کے لیے یہ حقیقتیں آنکھ کھولنے والی ثابت ہوں گی۔ وہ داعی کو پہچان کر اس کے ساتھی بن جائیں گے مگر جو لوگ حق کی دعوت اور اس کے داعی کے بارہ میں سنجیدہ نہ ہوں،

‹ Previous page Next page › Contents of August 1991 All issues

Printed page