قول سدید
الرسالہ، اگست ۱۹۹۱، صفحہ ۳۱
واقع نہ ہوگی۔
اس کے برعکس دوسرا انداز یہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ ”حسن بصری صحابہ کرام پر جارحانہ تنقید کرتے تھے: یہ دوسرا کلام غیر سنجیدہ قول کی مثال ہے۔ کیوں کہ وہ ایک واقعہ کی تعمیم ہے۔ وہ ایک سادہ بات کو سنگین بات بنا کر پیش کرنا ہے۔ ایسا قول خود کہنے والے کے لیے بھی جرم کی حیثیت رکھتا ہے اور سننے والوں کے اندر بھی وہ غلط اثرات پیدا کرنے والا ہے۔
دونوں جملوں میں بظاہر صرف چند الفاظ کا فرق ہے۔ مگر حقیقت کے اعتبار سے دونوں میں آسمان اور زمین کا فرق ہے۔ حتیٰ کہ ایک جملہ بولنا پوری طرح جائز ہے، اور دوسرا جملہ بولنا پوری طرح ناجائز۔ آدمی کے منھ سے نکلے ہوئے الفاظ اس کی پوری شخصیت کے ترجمان ہوتے ہیں۔ یہی معاملہ مذکورہ دونوں جملوں کا ہے۔ پہلا جملہ سنجیدہ ذہن کا پتہ دیتا ہے اور دوسرا جملہ غیر سنجیدہ ذہن کا۔ پہلے جملہ میں احتیاط کی نفسیات جھلکتی ہے اور دوسرے جملہ میں بے احتیاطی کی نفسیات۔ پہلے جملہ میں معاملہ کو جیسا ہے ویسا ہی بیان کیا گیا ہے اور دوسرے جملہ میں اس کو خود ساختہ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ پہلا جملہ حقیقت پر مبنی کلام ہے اور دوسرا جملہ حقیقت سے ہٹا ہوا کلام۔
پہلا جملہ خدا سے ڈرنے والے انسان کا کلام ہے اور دوسرا جملہ خدا سے نہ ڈرنے والے انسان کا کلام۔ پہلا جملہ منصفانہ قول کا نمونہ ہے اور دوسرا جملہ ظالمانہ قول کا نمونہ۔ پہلا جملہ بولنا شرعی اعتبار سے کوئی جرم نہیں، مگر دوسرا جملہ بولنے والا یقینی طور پر شریعت کی نظر میں اپنے آپ کو مجرم ثابت کرتا ہے۔ حسن بصری نے تو کبھی ایسا نہیں کیا کہ وہ صحابہ کرام کی جماعت پر جارحانہ تنقید کریں۔ انھوں نے صرف ایک صحابی کی بعض روش سے اظہار اختلاف کیا، جو ان کے نزدیک، دوسرے صحابہ کی روش سے ہٹی ہوئی تھی۔
مگر جب ایک شخص اس طرح کہے کہ ”حسن بصری صحابہ کرام پر جارحانہ تنقید کرتے ہیں: تو خود یہ کہنے والا یقینی طور پر ”جارحانہ تنقید کا مجرم بن گیا۔ کیوں کہ جو الزام مخاطب کے اوپر چسپاں نہ ہو وہ خود متکلم کی اپنی طرف لوٹ آتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1991 All issues