قول سدید
الرسالہ، اگست ۱۹۹۱، صفحہ ۳۲
خمسي شهادة أن لا إله إلا الله وأن محمداً گئی۔ اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا عبده ورسوله وإقام الصلاة وايتاء کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد اس کے بندے اور الزكاة والحج وصوم رمضان رسول ہیں۔ اور نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ دینا اور (متفق عليه) حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔
اس حدیث کے مطابق ، اسلام میں پانچ چیزیں ستون (pillars) کی حیثیت رکھتی ہیں۔ جس طرح عمارت کچھ ستونوں پر کھڑی ہوتی ہے ، اسی طرح اسلامی زندگی پانچ ارکان پر قائم ہوتی ہے۔ یہ پانچ ارکان بظاہر پانچ شکلی چیزوں کے نام ہیں۔ یعنی کلمہ ایمان کے الفاظ کو دہرانا۔ صلاۃ کے ڈھانچہ کو قائم کرنا ، زکوٰۃ کی مقررہ رقم نکالنا ، حج کے مراسم کو ادا کرنا ، رمضان کے صوم کا اہتمام کرنا۔ مگر اس کا مطلب شکل برائے شکل نہیں ، بلکہ شکل برائے اسپرٹ ہے۔ یعنی ان شکلی احکام کی ایک حقیقت ہے اور ان کی وہی ادا ئیکی معتبر ہے جس میں اس کی حقیقت پائی جائے۔ اس دنیا میں ہر چیز کا معاملہ یہی ہے ۔ مثلاً ٹیلی فون کو لیجیے ۔ جیسا کہ معلوم ہے ، ٹیلی فون کی ایک ظاہری صورت ہوتی ہے۔ مگر یہی ظاہری صورت وہ چیز نہیں ہے جو اصلًا ٹیلی فون سے مطلوب ہو۔ ٹیلی فون برائے ٹیلی فون مطلوب نہیں ہوتا بلکہ ٹیلی فون برائے رابطہ مطلوب ہوتا ہے۔ اگر آپ کہیں کہ میرے پاس ٹیلی فون ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوگا کہ ٹیلی فون کی صورت آپ کے پاس موجدا ہے اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ٹیلی فون کی حقیقت آپ کے پاس موجود ہے۔ یعنی ایک ایسی مشین جس کے ذریعہ دنیا کے ہر حصہ سے ربط قائم کیا جا سکے۔ جس کے ذریعہ دور کے لوگوں سے گفتگو کی جا سکے۔ یہی معاملہ اسلام کے مذکورہ پانچ ارکان کا بھی ہے۔ یہ ارکان اسی وقت ارکان اسلام ہیں جب کہ ان کو اس طرح اختیار کیا جائے کہ ان کی شکل کے ساتھ ان کی معنوی روح بھی آدمی کے اندر پائی جارہی ہو روح کو جود کرنے کے بعد شکل کا موجود ہونا ایسا ہی ہے جیسے اس کا موجود نہ ہونا۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1991 All issues