قول سدید
الرسالہ، اگست ۱۹۹۱، صفحہ ۳۳
خدا کا اس کے تمام صفات کمال کے ساتھ اعتراف کرتا ہے۔ وہ محمد عربی کی اس حیثیت کا اعتراف کرتا ہے کہ خدا نے ان کو میرے لئے اور تمام انسانوں کے لئے ابدی وہنما بنایا۔ یہ حقیقت جس کے دل میں اتر جائے وہ اس کی پوری نفسیات میں شامل ہو جاتی ہے۔ ایسے آدمی کا سینہ سچائی کے اعتراف کے لئے کھل جاتا ہے۔ وہ ایک ایسا انسان بن جاتا ہے جس کے لئے کوئی بھی چیز کسی حق کے اعتراف میں رکاوٹ نہ بن سکے۔
صلاۃ اسپریٹ ۔ ۔۔۔۔ صلوٰۃ کی ظاہری صورت پنج وقتہ عبادت ہے اور اس کی معنوی اسپریٹ تواضع ہے۔ صلوٰۃ کا عمل کرنے والا آدمی اپنے رب کے آگے جھکتا ہے۔ اس طرح وہ اپنے اندر تواضع کی نفسیات پیدا کرتا ہے۔ جس آدمی کے اندر صلوٰۃ اسپریٹ پیدا ہو جائے وہ گھمنڈ اور انانیت جیسی چیزوں سے یکسر خالی ہو جائے گا۔ اس کا رویہ ہر معاملہ میں تواضع کا رویہ بن جائے گانہ کہ فخر اور کبر کا رویہ۔
زکاۃ اسپریٹ ۔ ۔۔۔۔ زکوٰۃ کی ظاہری صورت سالانہ ایک مخصوص رقم کی ادائگی ہے اور اس کی معنوی اسپریٹ خدمت ہے۔ جو آدمی زکوٰۃ کا عمل کرے اس کے اندر خلق کے لئے خدمت اور خیر خواہی کا عمومی جذبہ پیدا ہو جائے گا۔ وہ چاہے گا کہ رہ دنیا میں اس طرح رہے کہ وہ دوسروں کے لئے زیادہ سے زیادہ مفید بن سکے۔
حج اسپریٹ ۔ ۔۔۔۔ حج اپنے ظاہر کے اعتبار سے سالانہ مراسم کی ادائگی ہے اور اس کی معنوی اسپریٹ اتحاد ہے۔ جو آدمی صحیح کیفیت کے ساتھ حج کے فرائض ادا کرلے اس کے اندر اختلافی نفسیات کا خاتمہ ہو جائے گا، وہ اتحاد و اتفاق کے مزاج کے ساتھ لوگوں کے درمیان رہنے لگے گا، حتی کہ اس وقت بھی جب کہ دوسروں کے ساتھ اس کا اختلاف پیش آگیا ہو۔ صوم اسپریٹ ۔ ۔۔۔۔ صوم کی ظاہری صورت رمضان کے مہینہ کا روزہ ہے اور اس کی معنوی اسپریٹ صبر ہے۔ صوم کا مقصد یہ ہے کہ آدمی کے اندر صبر کی اسپریٹ پیدا ہو۔ جو آدمی صوم کا عامل ہو، اس کے اندر یہ عمومی مزاج پیدا ہو جائے گا کہ وہ ناخوش گوار باتوں کو برداشت
‹ Previous page Next page › Contents of August 1991 All issues