Al-Risala · August 1991 · page 34

قول سدید

الرسالہ، اگست ۱۹۹۱، صفحہ ۳۴

ہوگی۔

مثلاً کلمہ ایمان کے الفاظ کو اپنی زبان سے دہرائیں گے، مگر ان مخصوص الفاظ کے باہر جب ان کے سامنے کوئی حق آئے گا تو وہ اس کا اعتراف نہ کرسکیں گے، کیوں کہ ان کی روح کلمہ کی اسپرٹ سے خالی ہے۔ وہ نماز کی شکل کو مسجد میں کھڑے ہوکر دہرائیں گے۔ مگر مسجد کے باہر جب لوگوں کے ساتھ ان کا سابقہ پیش آئے گا تو وہاں وہ تواضع کا انداز اختیار نہ کرسکیں گے، اور اس کی وجہ یہ ہوگی نماز کی جواسپرٹ ہے وہ ان کے اندر موجود نہیں۔

اسی طرح وہ زکوٰۃ کے نام پر ایک رقم نکال کر کسی کو دیدیں گے۔ مگر اس کے بعد جب وہ لوگوں کے ساتھ معاملات کریں گے تو اس میں وہ خیر خواہی کا ثبوت نہ دے سکیں گے، کیوں کہ زکوٰۃ اسپرٹ سے ان کا سینہ خالی تھا۔ وہ اہتمام کے ساتھ حج کا سفر کریں گے اور اس کے مراسم ادا کر کے واپس آ جائیں گے۔ مگر وہ اس کے لئے تیار نہ ہوں گے کہ لوگوں کی طرف سے پیش آنے والی شکایتوں کو نظرانداز کرتے ہوئے ان کے ساتھ اتحاد و اتفاق کا معاملہ کریں۔ کیوں کہ انھوں نے حج کے باوجود حج اسپرٹ اپنے اندر پیدا نہیں کی۔ رمضان کا مہینہ آئے گا تو وہ موسمی عبادت کے طور پر ایک مہینہ کا روزہ رکھ لیں گے۔ مگر وہ صبر کے موقع پر صبر نہیں کریں گے۔ وہ ہر اشتعال پر مشتعل ہو کر لڑنے لگیں گے۔ اور اس کی وجہ یہ ہوگی کہ ظاہری طور پر انھوں نے روزہ تو رکھ لیا، مگر ان کے دل و دماغ میں روزہ کی اسپرٹ پیدا نہ ہوسکی۔ جو آدمی اسلام کے پانچ ارکان کو اختیار کرلے وہ مومن و مسلم ہوگیا۔ وہ اس کا مستحق ہوگیا کہ دنیا میں اس کو اللہ کی رحمت ملے اور آخرت میں اس کو جنت میں داخل کیا جائے۔ مگر اسلام کے پانچ ارکان اپنی شکل اور روح دونوں کے اعتبار سے مطلوب ہیں۔ ان کی ادائیگی پر جن انعامات کا وعدہ ہے اس کا تعلق کامل ادائیگی پر ہے نہ کہ ادھوری ادائیگی پر۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1991 All issues

Printed page