سفرنامہ امریکہ ۔ ۴
الرسالہ، اگست ۱۹۹۱، صفحہ ۳۵
سفرنامہ امریکہ ۔ ۴
اسلام کے بارہ میں اس غلط فہمی کی ذمہ داری تمام تر نا اہل مسلم رہنماؤں پر ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلم رہنماؤں نے سب سے زیادہ اہمیت اپنے قومی مسائل کو دی۔ چنانچہ جو قومیں انہیں ان کے قومی حوصلوں میں رکاوٹ نظر آئیں ، وہ ان کے دشمن بن کر اٹھ کھڑے ہوگئے ۔ اس کا یہ نتیجہ تھا کہ اسلام اینٹی امریکن ازم ، یا اینٹی ویسٹرن ازم کے ہم معنی بن گیا۔ اگر یہ رہنما دوسرے انسانوں کی نجات آخرت کے لئے تڑپتے تو وہ دوسرے انسانوں کے سامنے واللہ يَدْعُوا الى دارالسلام (یونس (۲۵) کا پیغام لے کر کھڑے ہوتے۔ نیز انہیں دوسری قوموں کا خیر خواہ بناتی۔ دوسری قومیں ان کے لئے محبت کا موضوع بن جاتیں۔ اور پھر لوگوں کو نظر آتا کہ اسلام ہمارا امر افق مذہب ہے نہ کہ ہمارا مخالف مذہب۔ یہ بلاشبہ اسلام کے حق میں سب سے بڑا نقصان ہے ، اور اسلام کو یہ نقصان اس کے دشمنوں نے نہیں پہنچایا بلکہ اسلام کے نادان دوستوں نے اسلام کو یہ سب سے بڑا نقصان پہنچایا ہے۔
امریکہ کے شہر پلین فیلڈ (Plainfield) سے ایک میگزین نکلتا ہے۔ اس کا نام اسلامک ہورائزن (Islamic Horizons) ہے۔ اس کا شمارہ جولائی ۔ اگست ۱۹۹۰ دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ اس کے صفحہ ۳۹ پر " انڈین مسلم ریلیف کمیٹی " کا اشتہار تھا۔ اس میں اپیل کی گئی تھی کہ فلاں پتہ پر اپنے عطیات (donations) روانہ کریں۔ اس اشتہار میں یہ الفاظ درج تھے کہ چوں کہ ہندوستان کے مسلمان کہتے ہیں کہ صرف اللہ ہمارا رب ہے ، اس لئے بے رحمانہ اور وحشیانہ ظلم ان پر ٹوٹ پڑا ہے ، مکمل گرہن کی مانند : Because Muslims in India say, "Allah is our Lord," ruthless and brutal oppression has come upon them like a full eclipse. یہ الفاظ نہ صرف واقعہ کے خلاف ہیں بلکہ وہ قرآن و حدیث کی نفی کے ہم معنی ہیں ۔ ہندوستان میں مسلمانوں کی تعداد 3۰۰ ملین بتائی جاتی ہے۔ یہ تعداد دور اول کے صحابہ و تابعین کی مجموعی تعداد سے بھی بہت زیادہ ہے۔ اگر واقعۃ مسلمانوں کی اتنی بڑی تعداد کو
‹ Previous page Next page › Contents of August 1991 All issues