Al-Risala · August 1991 · page 36

سفرنامہ امریکہ ۔ ۴

الرسالہ، اگست ۱۹۹۱، صفحہ ۳۶

والا ان کو ستانے میں کامیاب ہو۔ ایسی صورت میں یقیناً اللہ کی غیرت ہوش میں آئے گی اور پھر ظالموں کو زیر کر دیا جائے گا اور حق کی خاطر مظلوم ہو جانے والوں کو غلبہ عطا ہوگا۔ کیسے بے خبر ہیں وہ لوگ جو مخلوق کے ظلم کو جانیں مگر وہ خالق کے انصاف کو نہ جانیں۔ کیسے عجیب ہیں وہ لوگ جو انسان کی طاقت کو جانیں مگر وہ خدا وند ذو الجلال کی طاقت سے بے خبر بنے ہوئے ہوں۔

ضغیر اسلم صاحب کی یہاں کپڑے کی ایک بڑی دکان (اسٹور) ہے۔ اس میں کپڑے کو رکھنے کے لئے انھیں خاص طرح کی الماریوں کی ضرورت تھی۔ اس سلسلہ میں ایک بڑھئی (Bobbie) ان کی دکان میں کام کر رہا تھا۔ ۲۹ نومبر کی شام کو میں ان کے اسٹور میں گیا۔ میں نے بڑھئی کو کام کرتے ہوئے دیکھا تو بے ساختہ میری زبان سے نکلا : امریکی بڑھئی جو نا ایک ایڈوانٹیج ہے۔ ہر قسم کی تیار شدہ لکڑی، ہر قسم کا عمدہ لوہے کا سامان، ان کو کاٹنے اور جوڑنے کے لئے ہر قسم کی دستی مشین ۔ اسکریوگن (screw gun) وغیرہ بڑھئی کے پاس موجود تھیں۔ وہ ان کے ذریعہ اس طرح فینسی الماریاں بنا رہا تھا جیسے کہ یہ کوئی خشک کام نہ ہو بلکہ ایک تفریح کی مل ہو ۔ ترقی یافتہ ملکوں میں شراب اور جنسی آزادی جیسی خرابیاں بہت افسوسناک ہیں۔ ٹیکنیک کے اعتبار سے ان ملکوں اور ہندوستان جیسے ملکوں میں اتنا زیادہ فرق ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان کے مقابلہ میں ہم لوگ ابھی پتھر کے دور میں رہ رہے ہیں۔ ہندوستان میں بے شمار تحریکیں ہیں جو تخریب کے کارنامے انجام دے رہی ہیں۔ مگر کوئی ایک بھی ایسی تحریک نہیں جو حقیقی معنوں میں تعمیری مقاصد کے لئے سرگرم ہو، جو ملک کو آگے لے جانے کی کوشش کرے۔ تحریکوں کے ہجوم میں تحریک کے فقدان کی یہ کیسی عجیب مثال ہے جو ہندوستان میں پائی جاتی ہے۔

یہ ایک جدید طرز کا اسٹور تھا۔ یہاں میٹر پر نہایت شاندار چھپے ہوئے بہت سے کیٹلاگ رکھے ہوئے تھے۔ ان میں ملبوس مردوں اور عورتوں کی رنگین تصویروں کے ذریعہ کپڑوں کی نمائش کی گئی تھی۔ ایک صفحہ پر کپڑوں کی نمائش کرتے ہوئے یہ الفاظ درج تھے ــــــــــــ سنسنی خیز ، تمام نگاہیں تمہارے اوپر :

‹ Previous page Next page › Contents of August 1991 All issues

Printed page